رسائی کے لنکس

افغانستان کی سرحدوں پر نگرانی بہتر کرنے کا امریکی منصوبہ


افغانستان کی سرحدوں پر نگرانی بہتر کرنے کا امریکی منصوبہ

افغانستان کی سرحدوں پر نگرانی بہتر کرنے کا امریکی منصوبہ

امریکہ نے کہا ہے کہ افغان پولیس اور کسٹم حکام کو ملک کی سرحدوں پر ہونے والی نقل وحرکت کے نظام کو زیادہ بہتر انداز میں چلانے کے لیے تربیتی پروگرام کے سلسلے میں مزید امریکی ماہرین افغانستان بھیجے جائیں گے۔

کابل میں صدر حامد کرزئی اور دیگر اعلیٰ حکام کے ساتھ بات چیت کے اختتام پرجاری ہونے والے ایک بیان میں امریکی ہوم لینڈ سکیورٹی کی وزیر نپولیٹانو نے کہا ہے کہ بین الاقوامی افواج کے ملک سے انخلا ء کی تیاریوں کے سلسلے میں یہ ایک انتہائی اہم پروگرام ہے۔

انھوں نے کہا کہ 52 سابق امریکی کسٹم اور سرحدی افسران اس سال افغانستان پہنچیں گے جب کہ گیارہ امریکی ماہرین اس تربیتی پروگرام کے تحت پہلے ہی ملک میں موجود ہیں۔

تربیت کے اس منصوبے کا مقصد افغانستان سے منشیات اور کرنسی کی سمگلنگ کو روکنا ہے۔ محتاط اندازوں کے مطابق 2007ء سے اب تک تین ارب ڈالر ملک سے باہر بھیجے جاچکے ہیں۔

افغان حکام کے مطابق اس غیر قانونی ترسیل کے لیے ملک کے دو مرکزی ہوائی اڈوں کو استعمال کیا جارہا ہے اور زیادہ تر رقم دبئی بھیجی گئی ہے۔ امریکی عہدے داروں کو خدشہ ہے کہ یہ پیسہ افغانستان کو دی جانے والی مالی امداد یا منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی کا حصہ ہے جس کی سمگلنگ کو روکنا ناگزیر ہے۔

صدارتی دفتر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق امریکی وزیر نے کہا ہے کہ چار سال سے جاری تربیت کے اس منصوبے کے علاوہ افغان کسٹم حکام کو جدید آلات سے لیس کرنے کے سلسلے میں بھی امریکہ افغانستان کی مدد کرے گا۔

صدر کرزئی نے مہمان امریکی وزیر کو بتایا کہ افغان حکومت بھی اپنی استعداد کو بہتر کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے تاکہ بین الاقوامی لڑاکا افواج کے انخلاء کے بعد آئندہ چار سالوں کے دوران وہ ملک کے سلامتی سے متعلق اُمور کی ذمہ داری خود سنبھال سکے۔



XS
SM
MD
LG