رسائی کے لنکس

افغانستان میں سیاسی ترقی پر توجہ کی ضرورت

  • گیری تھامس

افغان صدر حامد کرزئی اور امریکی سفیر ریان کروکر

افغان صدر حامد کرزئی اور امریکی سفیر ریان کروکر

افغانستان اور امریکہ کے لیڈروں نے اسٹریٹیجک شراکت داری کے ایک سمجھوتے پر دستخط کیے ہیں جس میں امریکہ کی لڑاکا فوجوں کی واپسی کے بعد، افغانستان سے امریکہ کی مسلسل وابستگی کا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ افغانستان میں امریکہ اور اتحادیوں کی جدوجہد میں بیشتر توجہ سیکورٹی کو دی گئی ہے، لیکن سیاسی شعبے میں سیکورٹی کے مقابلے میں بہت کم پیشرفت ہوئی ہے۔

نئے معاہدے میں 2014 کے آخر تک امریکہ کی لڑاکا فوجوں کی مجوزہ واپسی کے بعد امریکہ کے ساتھ دیرپا شراکت داری کے لیے کہا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ افغان اور پولیس کو جسے مجموعی طور پر افغان نیشنل سیکورٹی فورسز یا مختصراً ’اے این ایس ایف‘ کہا جاتا ہے، امریکہ کی طرف سے تربیت، سازو سامان اور مشاورت کی شکل میں امداد ملتی رہے گی۔ اس معاہدے میں افغانستان کے سرکاری اداروں کو مضبوط بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

امریکہ میں افغانستان کے سابق سفیر، سید طیب جواد کہتے ہیں کہ امریکہ نے سیکورٹی کے اداروں کی تعمیر پر تو خوب توجہ دی ہے لیکن سیاسی اداروں کی ترقی پر نہ تو کافی پیسہ خرچ کیا ہے اور نہ خاطر خواہ کوشش کی ہے۔

’’سیکورٹی کی ذمہ داریوں کی افغان سیکورٹی فورسز کو منتقلی اور افغانستان کی معیشت میں بتدریج ایسی تبدیلی کہ اب اس میں نجی شعبے کو ممتاز مقام حاصل ہوتا جا رہا ہے یہ سب سیاسی تبدیلی کے مقابلے میں کہیں زیادہ منظم اور جاندار طریقے سے ہو رہا ہے۔‘‘

افغان حکومت کا موجودہ ڈھانچہ 2001 کے بون سمجھوتے کے نتیجے میں وجود میں آیا۔ یہ سمجھوتہ طالبان کو اقتدار سے محروم کیے جانے کے بعد کیا گیا تھا۔ اس میں صدارتی نظامِ حکومت اور ایک پارلیمینٹ اور عدلیہ کے قیام کے لیے کہا گیا ہے۔

تا ہم تجزیہ کار کہتے ہیں کہ حکومت میں کرپشن کی بھر مار ہے اور وہ ملک کے بہت سے حصوں میں مغربی ملکوں کی حمایت کے با وجود بھی اپنا اختیار منوانے میں ناکام رہی ہے۔
یو ایس آرمی وار کالج کے پروفیسر لیری گڈسن اپنی ذاتی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ نیٹو کی طرف سے سیکورٹی کے امور پر بہت زیادہ توجہ کا مقصد یہ ہے کہ مغربی فوجوں کو افغانستان سے نکلنے کو موقع مل جائے، چاہے افغانستان میں سیاسی اداروں کی حالت کچھ ہی کیوں نہ ہو۔

’’تمام تر توجہ افغانستان کی نیشنل سیکورٹی فورسز کی تعمیر پر رہی ہے۔ اور اگر یہ مقصد اس معیار تک حاصل ہو جائے جس کی تصدیق نیٹو کی فورسز کرنے کو تیار ہوں اور افغانستان میں ایک حکومت موجود ہو، تو فوجوں کی واپسی کا کام مکمل ہو سکتا ہے چاہے حکومت ایسی ہو یا نہ ہو جو معاشرے کو اس طرح چلا سکے جو با معنی اور مفید ہو۔‘‘

بون معاہدے کے بعد کے برسوں میں افغانستان میں حکومت کا سربراہ ایک ہی آدمی رہا ہے، اور وہ ہے حامد کرزئی۔ لیکن ان کے عہدے کی مدت 2014 میں ختم ہو رہی ہے اور یہ وہی سال ہے جب امریکہ کی جنگی فوجیں واپس آنے والی ہیں۔

آئین کےمطابق وہ تیسری بار صدارت کے امید وار نہیں ہو سکتے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ کوئی ایسی شخصیت ابھر کر سامنے نہیں آئی ہے جو مسٹر کرزئی کی جگہ لے سکے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ نوجوانوں کو منظم انداز سے مستقبل میں سیاسی عہدوں کے لیے تیار نہیں کیا جا رہا ہے۔
سیاسی پارٹیوں کی تشکیل بھی پیچھے رہ گئی ہے۔ سابق امریکی سفارتکار مائیک میلنوسکی کو جنوبی ایشیا کے معاملات کا وسیع تجربہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ تاریخی طور پر سیاسی پارٹیوں پر اعتماد کی کمی ہے کیوں کہ وہ 1990 کی دہائی کے ابتدائی برسوں کی خٖانہ جنگی میں بری طرح الجھی ہوئی تھیں اور اس کے نتیجے میں ہی طالبان کو عروج حاصل ہوا۔

’’بیشتر افغان جب پارٹیوں کے بارے میں سوچتے ہیں تو ان کے ذہن میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی آف افغانستان یا ’پی ڈی پی اے‘کا خیال آتا ہے۔ یہ وہ کمیونسٹ گروپ ہے جس کے دو دھڑے تھے خلقی اور پرچم۔ یا پھر وہ تنظیموں کے بارے میں سوچتے ہیں یعنی وہ پارٹیاں جو پاکستان میں، پاکستان نے بنائی تھیں۔ لہٰذا افغانستان میں سیاسی پارٹیوں پر زیادہ اعتماد نہیں کیا جاتا۔ پھر یہ بھی ہے کہ ان پارٹیوں نے یا پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے کابل کو تباہ کر دیا۔‘‘

امریکہ طالبان کے عناصر سے رابطے میں ہے تاکہ انہیں مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔ لیکن طالبان چاہتے کیا ہیں؟ سابق افغان سفیر جواد کہتے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ طالبان اقتدار میں شریک ہونے کو تیار ہو جائیں، لیکن وہ ایسے عدالتی نظام میں، جو مستحکم نہیں ہے ججوں کے عہدے حاصل کرنے پر اصرار کریں گے۔

’’وہ یقیناً سیاسی طاقت چاہتے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ سیاسی طاقت میں حصے دار بننا چاہتے ہیں یا مکمل اقتدار چاہتے ہیں۔اگر افغانستان میں مذاکرات کی نگرانی کرنے اور ان پر عمل درآمد کرنے کا کوئی انتظام نہ ہوا، تو وہ اقتدار میں شریک ہونا پسند کریں گے، اور پھر بعد میں مکمل اقتدار کے لیے جنگ کریں گے۔‘‘

شیئراد کوپرکولیس افغانستان میں برطانوی سفیر اور افغانستان اور پاکستان میں خصوصی نمائندے رہ چکے ہیں۔ وہ ایک عرصے سے کہہ رہے ہیں کہ طالبان کے ساتھ سنجیدگی سے مذاکرات کیے جانے چاہئیں۔ وہ کہتے ہیں کہ نے اپنی حکومت کی افغان پالیسی کے بارے میں اختلافات کی بنا پر 2010 میں سفارتکاری چھوڑ دی اور اپنے تجربات پر مبنی کتاب ’کیبل فرام کابل تحریر کی ۔ وہ کہتے ہیں کہ سیاسی اور سرکاری اداروں کو مستحکم کرنے کے لیے یہ بات انتہائی ضروری ہے کہ افغان حکومت طالبان اور افغانستان کے ہمسایہ ملکوں کے ساتھ تصفیہ کرے۔

’’افغانستان کا آئین ناقابلِ عمل ہے۔ یہ افغانستان کی سیاسی تاریخ اور جغرافیے سے کوئی مطابقت نہیں رکھتا۔ لیکن اہم ترین بات یہ ہے کہ ہم نے دشمن سے، یعنی طالبان سے، باغیوں سے، کوئی تصفیہ نہیں کیا ہے ۔ اور افغانستان کے ہمسایوں میں اور ان کے درمیان بھی کوئی سمجھوتہ نہیں ہوا ہے۔ لہٰذا جب اگلے سال ہمارے فوجی لڑنا بند کر دیں گے تو امن پھر بھی نہیں ہو گا جسے قائم رکھا جا سکے۔ یہ صورتِ حال خاصی مایوس کن ہے۔‘‘

اس مہینے کے آخر میں شکاگو میں نیٹو کی جو سربراہ کانفرنس ہو گی، توقع ہے کہ اس میں افغانستان کا مسئلہ سرِ فہرست ہو گا۔

XS
SM
MD
LG