رسائی کے لنکس

امریکہ افغان سکیورٹی معاہدے پر اختلافات برقرار


افغان صدر کرزئی اور امریکی وزیر خارجہ کیری (فائل فوٹو)

افغان صدر کرزئی اور امریکی وزیر خارجہ کیری (فائل فوٹو)

افغان ترجمان کا کہنا تھا کہ صدر براک اوباما نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ افغان عوام کے نام ایک خط میں ’’انسداد دہشت گردی‘‘ کی جنگ میں ہونے والی غلطیوں پر معذرت کریں گے۔ لیکن امریکہ کی قومی سلامتی کی مشیر سوزان رائس نے ایسے کسی امکان کو رد کیا ہے۔

افغان حکومت نے کہا ہے کہ امریکہ نے مجوزہ سکیورٹی معاہدے کے تحت اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ اس کی افواج عام شہریوں کے گھروں پر نہ چھاپے ماریں گی اور نہ ہی تلاشی لیں گی۔

افغان صدر کے ترجمان ایمل فیضی نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ یقین دہانی صدر حامد کرزئی سے امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی ٹیلی فونک گفتگو میں کروائی گئی۔

لیکن امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان جین ساکی کا کہنا تھا کہ دونوں ملکون کے درمیان سکیورٹی معاہدے پر بعض حل طلب معاملات موجود ہیں اور یہ ابھی کسی نتیجے پر نہیں پہنچے۔

امریکی افواج کی طرف سے افغانوں کے گھروں کی تلاشی کا معاملہ سکیورٹی معاہدے کے لیے بات چیت میں ایک اہم معاملہ ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اسے حل کیے بغیر مذاکراتی عمل پٹڑی سے اتر سکتا ہے۔

افغان ترجمان کا کہنا تھا کہ صدر براک اوباما نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ افغان عوام کے نام ایک خط میں ’’انسداد دہشت گردی‘‘ کی جنگ میں ہونے والی غلطیوں پر معذرت کریں گے۔

لیکن امریکہ کی قومی سلامتی کی مشیر سوزان رائس نے کہا ہے کہ ان کا ملک افغان جنگ میں ہونے والی غلطیوں پر افغانستان سے معافی نہیں مانگے گا۔

امریکی حکام اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ مسٹر کرزئی نے جان کیری سے ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو میں ایک خط کی درخواست کی تھی جس میں ان غلطیوں پر معافی مانگی جائے۔

لیکن سوزان رائس نے ’سی این این‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’’اس کی کوئی ضرورت نہیں‘‘ کہ امریکہ افغانستان سے معانگی مانگے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ نے افغانستان میں جمہوری عمل کی معاونت، القاعدہ اور عسکریت پسندوں کے خلاف لڑائی میں قربانیاں دی ہیں۔
XS
SM
MD
LG