رسائی کے لنکس

افغان پالیسی کی کنجی صدر کے پاس ہے: کارل آئیکن بیری


افغان پالیسی کی کنجی صدر کے پاس ہے: کارل آئیکن بیری

افغان پالیسی کی کنجی صدر کے پاس ہے: کارل آئیکن بیری

افغانستان کے لئے امریکی پالیسی کا کنٹرول امریکہ کے صدر کے سوا کسی اور کے پاس نہیں ہے اور کسی فرد واحد کے جانے سے امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

افغانستان میں امریکی سفیر کارل آئیکن بیری نے کہا ہے کہ افغانستان کے لئے امریکی پالیسی کا کنٹرول امریکہ کے صدر کے سوا کسی اور کے پاس نہیں ہے اور کسی فرد واحد کے جانے سے امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ لیکن واشنگٹن میں امریکی ماہرین کا خیال ہے کہ افغانستان میں کامیابی کے لئے امریکی سفارتکاری کو تربیت یافتہ کیرئیر ڈپلومیٹس کی ضرورت ہے ، سیاسی طور پر تعینات کئے گئے سفارتی مندوبین کی نہیں ۔

ایک ایسے وقت میں جب اوباما انتظامیہ کی جانب سے افغانستان کے حوالے سے امریکی پالیسی کا از سر نو جائزہ مرتب کیا جا رہا ہے ،پاک افغان خطے کے لئے امریکہ کے خصوصی مندوب رچرڈ ہولبروک کی موت سے امریکی پالیسی پر کیا اثر پڑے گا ؟ افغانستان میں امریکی سفیر کارل آئیکن بیری کہتے ہیں کہ امریکہ کی خارجہ پالیسی کا کنٹرول امریکی صدر کے سوا کسی دوسرے کے پاس نہیں ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ میں یہ واضح کر دوں کہ امریکی صدر اور حکومت کی حکمت عملی کسی فرد واحد کی حیثیت یا اہمیت سے بڑھ کر ہے ، چاہے اس کا تعلق سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے ہو ، یا امریکی فوج سے ۔ ہم اسی پر عمل کرتے ہیں جوامریکی صدر کی حکمت عملی ہوتی ہےاور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم کون ہیں ۔

کارل آئیکن بیری نے کابل میں وائس آف امریکہ کے نمائندے رحیم گل کو ایک انٹرویومیں یہ بھی کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران افغانستان کے کئی اہم علاقوں میں طالبان کا زور ٹوٹا ہے اورحکومت امور ، معیشت اور انفرا سٹرکچر میں بھی بہتری دیکھنے میں آئی ہے ۔ لیکن امریکی سفیر کاکہنا تھا کہ امریکہ اور نیٹو قیادت نے افغانستان کی سیکیورٹی کی ذمہ داریاں افغان اداروں کے سپرد کرنے کے لئے جولائی 2011 کے بجائے 2014 کی تاریخ طے کی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ایک بہت اہم تاریخ جو دو ماہ پہلے لزبن ،پرتگال میں نیٹو اور ایساف کے اجلاس میں طے کی گئی جس میں صدر کرزئی بھی شریک ہوئے تھے ، اس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ افغانستان کی فوج اور پولیس 2014 کے آخر تک یعنی تین سال بعداپنے ملک کی سیکیورٹی کی ذمہ داریاں خود سنبھال سکیں گے ۔ یہی ہدف صدر کرزئی نے ایک سال پہلے اپنے حلف برداری کے وقت طے کیا تھا ، اور یہ ایک حقیقت پسندانہ ہدف ہے ۔

امریکی سفیر نے افغانستان کے لئے صدر اوباما کے دسمبر کے پالیسی جائزے کو تشخیصی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد امریکی پالیسی میں تبدیلی نہیں ہوگا ۔

ان کا کہناتھا کہ صدر اوباما نے اپنی نئی افغان پالیسی کا ایک سال پہلے ویسٹ پوائنٹ نیویارک میں اعلان کیا تھا ۔ لیکن جنرل پیٹریس اور میں ہر مہینے ، ہر ہفتے اپنی جائزہ رپورٹ واشنگٹن بھیجتے ہیں ۔ تو دسمبر کا جائزہ کسی نئی پالیسی کا اعلان نہیں ہوگا ۔ بلکہ یہ جائزے کے مسلسل عمل کا حصہ ہے ، اور اس کی حیثیت بہت حد تک تشخیصی ہے ۔

وکی لیکس کے ذریعے سامنے آنے والی خفیہ امریکی دستاویز کے حوالے سے کارل آئیکن بیری کا کہنا تھا کہ یہ دستاویز سفارت کاروں کی گفتگو پر مبنی ہیں ، امریکی پالیسی نہیں ہیں ۔ تاہم خارجہ پالیسی کے بعض امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ وکی لیکس کے ذریعے سامنے آنے والی دستاویز بھی یہ بتاتی ہیں کہ امریکہ کے طرز سفارتکاری میں تبدیلی کی ضرورت ہے ۔

ڈیرک لی برٹ امریکی خارجہ پالیسی کی تاریخ پر ایک کتاب لکھ چکے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ امریکہ کو افغانستان کے معاملات میں غیر ضروری مداخلت سے گریز کرنا چاہئے۔

ان کا کہناتھا کہ زیادہ آگے مت جائیں ۔ زیادہ کامیابیوں کی توقع مت رکھیں ، کیونکہ اگر کامیابی ملی بھی تو میرے خیال میں مختصر مدتی ہوگی ، ہم نے یہ پہلے بھی کئی بار دیکھا ہے کہ ہم نیشن بلڈنگ کے کام میں لگ گئے اور افغانستان میں بھی امید نہیں ہے کہ یہ حکمت عملی درست ثابت ہوگی ۔

افغانستان اور پاکستان کے لئے رچرڈ ہولبروک کی جگہ ان کی ذمہ داریاں عبوری طور پر ان کے نائب فرینک روگیرو کو سونپی گئی ہیں ، جنہیں اس ہفتے افغانستان کے حوالے سے ہونےو الے اہم پالیسی اجلاسوں میں شرکت کرنی ہے ۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ رچرڈ ہولبروک کی موت امریکی سفارتکاری کے اہم ترین مورچے افغانستان کے لئے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے ۔

XS
SM
MD
LG