رسائی کے لنکس

افغانستان: نائب صدر دوستم پر طالبان کا حملہ ناکام


فائل

فائل

صوبہ فریاب کے پولیس سربراہ کے مطابق فائرنگ کے تبادلے کے دوران کئی گولیاں نائب صدر کی گاڑی کو بھی لگیں لیکن وہ محفوظ رہے۔

افغانستان کے نائب صدر اور سابق جنگجو کمانڈر عبدالرشید دوستم کے ساتھیوں نے نائب صدر کے قافلے پر طالبان کا حملہ ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

افغان ذرائع ابلاغ کے مطابق نائب صدر دوستم کے قافلے پر جمعے کو لگ بھگ 20 طالبان جنگجووں نے صوبے فریاب کی ایک دور دراز شاہراہ پر حملہ کیا تھا۔

قافلے میں موجود صوبائی پولیس کے سربراہ سبحان قل نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ نائب صدر کے ساتھیوں اور محافظوں نے حملے کے خلاف سخت مزاحمت کی اور ان کے اور جنگجووں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ لگ بھگ تین گھنٹے تک جاری رہا۔

پولیس سربراہ کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں چار حملہ آور ہلاک ہوئے ہیں جب کہ 13 کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

حکام نے حملے کے نتیجے میں نائب صدر کے قافلے میں شامل افراد کو پہنچنے والےجانی نقصان کی تفصیلات جاری نہیں کی ہیں۔

سبحان گل کے مطابق فائرنگ کے تبادلے کے دوران کئی گولیاں نائب صدر کی گاڑی کو بھی لگیں لیکن وہ محفوظ رہے۔

ازبک نسل سے تعلق رکھنے والے عبدالرشید دوستم سوویت یونین کے خلاف لڑائی میں اپنے کردار کی وجہ سے جنرل دوستم کے نام سے مشہور ہیں اور وہ افغانستان پر 2001ء کے امریکی حملے سے قبل کئی برسوں تک اپنی ذاتی ملیشیا کے ہمراہ طالبان کے ساتھ برسرِ پیکار رہے تھے۔

بعدازاں جنرل دوستم نے افغانستان کے طالبان مخالف رہنماؤں کے اتحاد "شمالی اتحاد" کے پرچم تلے امریکی فوج کا ساتھ دیا تھا اور طالبان حکومت کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

دوستم کو گزشتہ کئی دہائیوں سے افغانستان کے شمال میں آبادازبک اقلیت کے متفقہ رہنما کی حیثیت حاصل ہے اور ان کی شہرت ایک سخت گیر جنگجو کی ہے۔

انسانی حقوق کے عالمی ادارے جنرل دوستم پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کے الزامات بھی عائد کرتے ہیں جب کہ ان پر افغانستان پر امریکی حملے کے دوران دو ہزار سے زائد طالبان قیدیوں کو کنٹینروں میں بند کرکے دم گھوٹ کر ہلاک کرنے کا الزام بھی عائد کیا جاتا رہا ہے۔

افغان صدر اشرف غنی نے گزشتہ برس جنرل دوستم کو اپنا نائب صدر مقرر کیا تھا جس کے بعد سے وہ سابق جنگجو کمانڈر کو ان کے اصرار کے باوجود افغان طالبان کے خلاف لڑائی میں عملی شرکت سے روکتے آئے ہیں۔

صدر غنی کا خیال ہے کہ جنرل دوستم کی ازبک ملیشیا کی طالبان کے خلاف لڑائی میں شرکت سے ملک میں نسلی کشیدگی میں اضافہ ہوسکتا ہے جس کے نتیجے میں افغانستان ایک بار پھر 1990ء کی دہائی کی خانہ جنگی کا شکار ہوجائے گا۔

افغان ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ نو ہزار سے زائد جنگجو جنرل دوستم کے نجی لشکر کا حصہ ہیں جس کے باعث ان کا شمار افغانستان کے چند بڑے باقی ماندہ جنگجو رہنماؤں میں ہوتا ہے۔

طالبان کے سخت دشمن تصور کیے جانے والے جنرل دوستم نے گزشتہ ماہ افغان پولیس اور فوج کے دستوں کے ہمراہ صوبہ فریاب کا دورہ کیا تھا جس کا مقصد ان کے بقول طالبان کے خلاف صوبے میں جاری آپریشن میں شریک سپاہیوں اور مقامی قبائلیوں کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔

XS
SM
MD
LG