رسائی کے لنکس

افغانستان: قرآن جلانے کے خلاف مظاہرے پانچویں روز بھی جاری


افغانستان: قرآن جلانے کے خلاف مظاہرے پانچویں روز بھی جاری

افغانستان: قرآن جلانے کے خلاف مظاہرے پانچویں روز بھی جاری

امریکی ریاست فلوریڈا کے ایک چھوٹے سے گرجاگھر کے پادری ٹیری جونز کی جانب سے قرآن مجید جلائے جانے کے واقعہ کے خلاف افغانستان میں پانچویں روز بھی مظاہرے جاری رہے۔ جمعے کے روز مزار شریف سے شروع ہونے والے ان مظاہروں میں اب تک تقریباً 20 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

منگل کے روز دارالحکومت کابل میں تقریباً ایک ہزار افراد نے مظاہرہ کرکے اس واقعہ پر اپنے غم وغصے کا اظہار کیا۔

بعض رپورٹوں میں اس سمت اشارہ کیا گیا ہے کہ کچھ عناصر ان مظاہروں کو مزید ہوا دے کر مستقبل قریب میں صوبوں کی سیکیورٹی کی ذمہ داریاں افغان فورسز کو سونپنے کے عمل کو ناکام بنانا چاہتے ہیں۔

تاہم حکومت اور بین الاقوامی سیکیورٹی فورسز کے کئی ناقدین کا کہناہے کہ حکام صورت حال کو سمجھنے اور اس سے نمٹنے میں ناکام رہے ہیں، جب کہ بہتر منصوبہ بندی کے ذریعے نقصانات سے بچا جاسکتاتھا۔

کئی ایک کا یہ کہناہے کہ فلوریڈا میں رونما ہونے والے اس واقعہ کی صدر حامد کرزئی کی جانب سے کھلے عام مذمت سے صورت حال میں مزید بگاڑ پیدا ہوا۔ کیونکہ انہوں نے اپنے بیان میں جونز کو سزا دینے کا مطالبہ کیاتھا جب کہ انہوں نے اس کا کوئی قانونی راستہ نہیں بتایا۔

کابل میں واقع امریکن انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر برائے افغان اسٹڈیز محمد عمر شریفی کا کہناہے کہ اصل مسئلہ اس واقعہ کی حساس نوعیت کا ہے۔ ان کا کہناتھا کہ افغانستان میں ہم نے جوکچھ سنا وہ یہ تھا کہ جونز نے کیا کیا ۔ افغانیوں کو یہ نہیں بتایا گیا کہ امریکی سوسائٹی نے اس واقعہ کی کتنی شدت سے مذمت کی تھی۔ اگر افغانیوں کو یہ رخ بھی دکھایا جاتا تو صورت حاصل کافی مختلف ہوسکتی تھی۔

اتوار کے روز بین الاقوامی فورسز کے کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹریس نے اپنے ایک بیان میں قرآن جلانے کے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایک فرد واحد کی جانب سے امریکہ میں کیا جانے والا یہ اقدام قابل نفرت ہے، ناقابل برادشت ہے اور انتہائی تحقیر آمیز ہے۔ہم اس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

امریکی صدر براک اوباما بھی اس واقعہ کی مذمت کرچکے ہیں۔

محمد عمر شریفی کا کہنا ہے کہ بہت سے افغان یہ سمجھتے ہیں کہ اس واقعہ کے خلاف جس طرح کے ردعمل کا مظاہرہ کیا گیا، وہ مناسب نہیں تھا۔

شریفی کا یہ بھی کہناتھا کہ مستقبل میں کسی بھی ناخوشگوار ردعمل سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ صورت حال کو واضح طورپر پیش کیا جائے اور نامناسب واقعات کی مذمت میں اٹھنے والی آوازوں کو بھی عوام کے سامنے لایا جائے۔

XS
SM
MD
LG