رسائی کے لنکس

تشدد کے باعث افغان بچوں کی اسکولوں اور اسپتالوں تک رسائی متاثر: رپورٹ


فائل فوٹو
فائل فوٹو

قوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں لڑائی کے باعث 2015 ء میں 369 سے زائد اسکول جزوی یا مکمل طور پر بند کر دیئے گئے جس کی وجہ سے تقریباً ایک لاکھ چالیس ہزار طلبا اور 600 اساتذہ متاثر ہوئے۔

اقوام متحدہ نے پیر کو متنبہ کیا ہے کہ افغانستان میں بڑھتے ہوئے حملوں اور متحارب فریقوں کی طرف سے طبی مراکز اور تعلیمی اداروں کے غلط استعمال کے باعث صحت عامہ اور بچوں کے لیے تعلیمی سہولتوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن اور اقوام متحدہ کا ادارہ برائے اطفال یعنی 'یونیسف' کی طرف سے جاری کی گئی ایک مشترکہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال افغانستان میں ہوئے تشدد کے مختلف واقعات میں صحت اور تعلیم کے شعبوں سے وابستہ 31 کارکن ہلاک اور 58 زخمی ہوئے جب کہ 115 کو اغوا کر لیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق 2014 کے مقابلے میں 2015 میں اس نوعیت کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن کے سربراہ نیوکلیس ہیوسم نے ایک بیان میں کہا کہ "اس رپورٹ میں سامنے آنے والے نتائج نہایت تشویشناک ہیں اور یہ کسی طور بھی قابل قبول نہیں کہ اساتذہ، ڈاکٹروں اور نرسوں کو تشدد اور دھمکیوں کا نشانہ بنایا جائے اور اسکولوں اور طبی مراکز کا غلط استعمال کیا جائے"۔

اُنھوں نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ افغانستان میں صحت اور تعلیم کی سہولتوں کا تحفظ کریں۔

افغانستان میں انسانی حقوق کی ایک غیر سرکاری تنظیم کے سربراہ لعل گل لعل نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں اقوام متحدہ کے رپورٹ میں پیش کیے اعداد و شمار سے اتفاق کرتے ہوے کہا کہ ملک میں جاری تنازع کے باعث عام افغان شہریوں کے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔

"جس تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اس پر ہم سب لوگوں کو بھی تشویش ہے اس لیے کہ وہاں لڑائی ہو رہی ہے ان علاقوں کے مکینوں کو بچوں کو ناصرف تعلیم اور صحت کے مسائل کا سامنا ہے بلکہ ان کا روزگار بھی متاثر ہوا جس کی وجہ سے ایک بڑی تعداد میں لوگوں کو (ان علاقوں سے) نقل مکانی کرنے پڑی ہے"۔

یہ رپورٹ ایسے وقت جاری کی گئی جب افغان حکومت اور طالبان کے درمیان لڑائی میں تیزی آئی ہے اور رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہلمند صوبے میں طالبان جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کے دوران افغان فورسز نے اسکولوں کی عمارتوں کو بھی استعمال کیا۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں لڑائی کے باعث 2015 ء میں 369 سے زائد اسکول جزوی یا مکمل طور پر بند کر دیئے گئے جس کی وجہ سے تقریباً ایک لاکھ چالیس ہزار طلبا اور 600 اساتذہ متاثر ہوئے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ افغانستان میں جاری لڑائی کی وجہ سے لڑکیوں کے لیے تعلیم کے حصول کے مواقع بھی محدود ہو گئے ہیں۔

واضح رہے کہ اتوار کو افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن کی طرف سے جاری کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق رواں سال کے پہلے تین ماہ میں ہلاک و زخمی ہونے والے دو ہزار افراد میں سے ایک تہائی تعداد صرف بچو ں کی ہے۔

XS
SM
MD
LG