رسائی کے لنکس

افغانستان میں ووٹنگ کا عمل مکمل، پرتشدد حملوں میں14 افراد ہلاک


افغانستان میں ولسی جرگہ یا پارلیمان کے ایوان زیریں کی 249 نشستوں پر اُمیدواروں کے انتخاب کے لیے ہفتہ کو ووٹ ڈالے گئے۔

پولنگ کے دوران صوبہ بغلان میں ایک راکٹ حملے میں کم از کم چھ افراد ہلا ک ہو ئے جب کہ دارالحکومت کابل اور جلال آباد میں بھی بم دھماکے ہوئے جن میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔ افغانستان میں انٹیلی جنس حکام نے صوبہ پروان کی طرف جانے والے ایک مشتبہ خودکش بمبار کوبھی گرفتار کیا ۔

طالبان عسکریت پسندوں نے انتخابات میں خلل ڈالنے کی دھمکی دی تھی اور لوگوں سے کہا تھا کہ وہ ووٹ ڈالنے کے لیے پولنگ اسٹیشنوں پر نہ جائیں۔ لیکن افغان صدر حامد کرزئی نے دارالحکومت کابل کے ایک پولنگ اسٹیشن میں اپناووٹ ڈالنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس اُمید کا اظہار کیا تھا کہ بغیر کسی خوف کے زیادہ سے زیادہ افغان انتخابی عمل میں شرکت کر کے ایک نمائندہ پارلیمان کے انتخاب کو یقینی بنائیں گے۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے نے کابل میں مختلف پولنگ اسٹیشنوں کا دورہ کیا ۔ انتخابات سے ایک روز قبل 19 افراد کو اغواء کیا گیا تھا اور طالبان نے اس کی ذمہ داری قبول کر لی ہے، ان افراد میں انتخابات میں حصہ لینے والا ایک اُمیدوار ، الیکشن کمیشن کے آٹھ اہلکار اور دس دیگر افراد شامل ہیں۔

پولنگ کے دوران تقریباً تین لاکھ افغان پولیس اور فوج کے اہلکار تعینات کیے گئے تھے جنہیں ملک میں موجود ڈیڑھ لاکھ غیر ملکی فوجیوں کی معاونت بھی حاصل تھی۔ افغانستان کے الیکشن کمیشن کے مطابق ملک بھر کے چھ ہزار سے زائد پولنگ اسٹیشنوں میں سے تقریباً 15 فیصد سکیورٹی خدشات کے باعث بند رہے ۔

ایوان زیریں کے انتخابات میں لگ بھگ دوہزار پانچ سو اُمیدواروں نے حصہ لیا جن میں چارسو سے زائدخواتین بھی شامل ہیں۔ افغانستان میں2001ء میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد ایوان زیریں کے یہ دوسرے انتخابات ہیں اس سے قبل 2005 ء میں ہونے والے انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کی شرح پچاس فیصد رہی تھی۔

رچرڈ ہالبروک

رچرڈ ہالبروک

افغانستان اور پاکستان کے لیے خصوصی امریکی ایلچی رچرڈ ہالبروک نے جمعہ کواسلام آباد میں ریڈیو پاکستان کے زیر اہتمام صحافیوں کے ساتھ ایک مذاکرے میں کہا تھا کہ انھیں اُمید ہے کہ افغانستان میں پارلیمانی انتخابات شفاف اور منصفانہ ہو ں گے لیکن وہ اس بات سے بھی بخوبی آگاہ ہیں کہ یہ ایک نا قص عمل ہوگا کیوں کہ ایک ایسے وقت جب ملک حالت ِ جنگ میں ہے اور طالبان کے حملے بھی جاری ہیں مکمل طور پر شفاف انتخابی عمل کا انعقاد ممکن نہیں۔

XS
SM
MD
LG