رسائی کے لنکس

طول پکڑتی جنگ کے افغانوں پر تباہ کن اثرات


صدر کرزئی اپنی حکومت کے دیگر عہدے داروں کے ہمراہ (فائل فوٹو)

صدر کرزئی اپنی حکومت کے دیگر عہدے داروں کے ہمراہ (فائل فوٹو)

افغانستان میں تقریباً بارہ سال سے جاری جنگ کے عام شہریوں پر تباہ کن اثرات ہورہے ہیں اور اُن کا مستقبل بظاہر تاریک دکھائی دیتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی (آئی سی آر سی) کے سبکدوش ہونے والے سربراہ ریٹو اسٹاکر نے پیر کو کابل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

اُنھوں نے کہا کہ نیٹو کی قیادت میں لڑی جان والی افغان جنگ طول پکڑ رہی ہے جو خاص طور پر عام شہریوں کو درپیش مشکلات کے پیش نظر انتہائی تشویش ناک امر ہے۔

’’میں 2006ء میں افغانستان آیا تھا اورتب سے آج تک مقامی مسلح گروہوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ دیگر شعبوں کی طرح صحت عامہ تک افغان شہریوں کی رسائی بھی مسلسل بگاڑ کا شکار ہے۔‘‘

افغانستان میں تعینات امریکہ اور نیٹو کی افواج کی اکثریت سلامتی کی ذمہ داریاں افغانوں کو منتقل کرکے 2014 تک واپس چلی جائیں گی۔

لیکن امدادی تنظیموں اور کابل میں بعض مغربی سفارت کاروں کو خدشہ ہے کہ بین الاقوامی فوجوں کے انخلا کے بعد افغان دھڑوں میں اُسی طرح کی خانہ جنگی دوبارہ شروع ہوجائے گی جس کا ملک کو 1990 کی دہائی میں سامنا کرنا پڑا تھا اور جس کے نتیجے میں طالبان شدت پسند تنظیم نے جنم لیا۔

انٹرنیشنل کرائسس گروپ (آئی سی جی) نے بھی پیرکو جاری کردہ اپنی تجزیاتی رپورٹ میں کہا ہے کہ نیٹو افواج کے انخلا کے بعد صدر حامد کرزئی کی تیزی سے غیرمقبول ہوتی حکومت گرنے کا خدشہ ہے کیونکہ اُسی سال ملک میں صدارتی اور پارلیمانی انتخابات متوقع ہیں جن پرعوامی اعتماد نا ہوا تو افغانستان ایک باپھر بحران کا شکار ہوجائے گا۔

انٹرنیشنل کرائسس گروپ نے کہا ہے کہ اس وقت افغان حکومت بدعنوانی اور لسانی تقسیم کا شکار ہے اور غیر ملکی افواج کی واپسی کے بعد مقامی سکیورٹی فورسز قطع سلامتی کی ذمہ داری سنبھالنے کی پوزیشن میں نہیں۔

’’لہذا، افغانستان میں آئندہ شفاف اورغیر جانبدارانہ انتخابات کا انعقاد اور احسن طریقے سے اقتدار کی منتقلی کے امکانات نا ہونے کے برابر ہیں۔‘‘

لیکن صدر کرزئی کے مرکزی ترجمان ایمل فیضی نے کہا ہے کی کرائس گروپ کی رپورٹ پیر کو کابینہ کے اجلاس میں زیر بحث آئی مگر سینیئر وزراء نے اسے بے بنیاد اور زمینی حقائق کے منافی قرار دے کر مسترد کردیا۔
XS
SM
MD
LG