رسائی کے لنکس

کیا افغان جنگ نیدر لینڈ کے انتخابات پر اثرانداز ہوسکتی ہے؟

  • ہنری ویل

کیا افغان جنگ نیدر لینڈ کے انتخابات پر اثرانداز ہوسکتی ہے؟

کیا افغان جنگ نیدر لینڈ کے انتخابات پر اثرانداز ہوسکتی ہے؟

افغانستان میں آٹھ سال سے جاری لڑائی میں اب تک ہلاک ہونے والے نیٹو فوجیوں کی تعداد تقریبا دو ہزار تک پہنچ چکی ہے اور دوسری طرف یورپ میں جاری معاشی بحران کے اثرات بھی افغانستان میں جاری نیٹو مشن تک پہنچنا شروع ہو گئے ہیں ۔کئی نیٹو ممالک میں اپنی افواج افغانستان سے واپس بلانے کے لئے دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ایسے ملکوں میں سے ایک ہالینڈ یا نیدر لینڈ بھی ہے ،جہاں کل عام انتخابات کے لئے ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔

ایمسٹرڈم کی سڑکوں پربظاہر سب کچھ پرسکون ہے۔سائیکل سوار نہر کے پانی کے ساتھ پرسکون انداز میں اپنی منزلوں کی طرف رواں دواں ہیں۔ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ نیدر لینڈ میں سیاسی بےچینی کا دور ہے ۔ اس ملک کی پارلیمنٹ ہیگ میں بیٹھتی ہے، جہاں اس سال فروری میں حکومت کو اس لئے رخصت ہونا پڑا تھا کہ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتیں افغانستان میں ملک کے نیٹو مشن کی توسیع پر متفق نہیں ہو سکی تھیں ۔ جس کانتیجہ نو جون کو ہونے والے عام انتخابات ہیں ۔نیدر لینڈ کے کئی شہریوں کا خیال ہے کہ ان کے ملک نے افغانستان کے لئے اس سے زیادہ کیا ہے جتنا کرنا چاہئے تھا۔

افغانستان میں خدمات سرانجام دینے والے ایک ڈچ فوجی کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ ہماری حیثیت دنیا کے نقشے پر ایک نکتے سے زیادہ نہیں ہے ۔ اور ہم ہر جگہ اتنا کام کر رہے ہیں۔

افغانستان میں نیدر لینڈ کے دو ہزار فوجی موجود ہیں ، جن کی زیادہ تعداد جنوبی افغانستان میں ہے ۔ اور اس کے اب تک20 فوجی ہلاک ہو چکے ہیں ۔ نیدر لینڈ کے افغان مشن کی توسیع نہ ہونے کی وجہ سے اس کی فوج اس سال اگست تک افغانستان سے واپس آنا شروع ہو جائے گی ۔ نیدر لینڈ کی فوج کے لیفٹننٹ کرنل مارسل دی ہاس اس وقت بین الاقوامی تعلقات کے ایک ادارے سے منسلک ہیں ،جنہوں نے وائس آف امریکہ کے ہنری رج ویل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں نیدر لینڈ کی افواج کی غیر ملکی فوجی کارروائیوں میں شرکت کا انحصار سرمائے پر ہوگا ،کیونکہ اپنے موجودہ بجٹ میں ہم ان آپریشنز کے اخراجات نہیں اٹھا سکتے۔

باوجود اس کے کہ افغان جنگ نے نیدر لینڈ کی حکومت کے خاتمے میں کردار ادا کیا ، ماہرین کا کہنا ہے کہ انتخابی مہم میں افغانستان کا معاملہ زیادہ نمایاں نہیں ہوا ۔سیاسی تجزیہ کار میروف کہتے ہیں کہ اس وقت تو اولیت معیشت اور معاشی بحران جیسے ملکی معاملات کو حاصل ہے ۔ افغانستان کا تو ذکر بھی نہیں ہو رہا۔

افغانستان کا ذکر چاہےانتخابی موضوع نہ رہا ہو مگر نیدر لینڈ کا افغان مشن رائے عامہ کی رائے کو تقسیم ضرور کر رہا ہے۔

نیدر لینڈ کی نئی حکومت کا سب سے پہلا چیلنج گو کہ ملک کے معاشی معاملات کو درست کرنا ہوگا مگر بعض ماہرین افغانستان سے نیدر لینڈ کی فوج کی واپسی کو اس کے عالمی تعلقات کے لئے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔

مارسل دی ہاس کہتے ہیں کہ اس کی وجہ سے عالمی سطح پر ہمارے اثر میں کمی ہوگی ۔ اس وقت ہم جی ٹوینٹی کی رکنیت کے امیدوار ہیں ، اور شاید یہ معاملہ آگے نہ بڑھ سکے ۔ مجھے یقین ہے کہ اپنی فوج واپس بلانے سے ہم نیٹو اور دیگر عالمی فورمز پر اپنا اثر کھو بیٹھیں گے۔

نیدر لینڈ ہی نہیں ، سارے یورپی ملکوں میں دفاعی اخراجات میں کمی کی بحث جاری ہےجو ماہرین کے مطابق ان کی افغانستان میں فوجی موجودگی پر اثر انداز ہوگی،مگر نیدر لینڈ کے ووٹروں کے لئے بین الاقوامی تعلقات پر اپنا اثر کھونے سے زیادہ اہم اس وقت ملکی معیشت کا سنبھلنا ہے۔

XS
SM
MD
LG