رسائی کے لنکس

افغان جنگ اور روس امریکہ تعلقات

  • آندرے نیسنیرا
  • شمس الحسن

افغان جنگ اور روس امریکہ تعلقات

افغان جنگ اور روس امریکہ تعلقات

نیٹوکے حالیہ سربراہ اجلاس میں، اس اٹھائیس رکنی اتحاد نے افغانستان میں 2014 ء تک فوجی کارروائیاں ختم کرنے پر اتفاق کیا ، بشرطیکہ حالات سازگار ہوں۔ لیکن تجزیہ کار کہتے ہیں کہ لزبن کے اس سربراہ اجلاس کی اہم ترین میٹنگ وہ تھی جو روس کے صدر دیمتری میدویدف اور نیٹو کے لیڈروں کے درمیان ہوئی۔

صدر میدویدف اور نیٹو کے لیڈروں کے درمیان میٹنگ روس نیٹو کونسل کے تحت ہوئی جس میں نیٹو کے28ارکان اور روس اکٹھے ہوتے ہیں۔ یہ میٹنگ نیٹو کے سرکاری سربراہ اجلاس کے ساتھ ہوئی اور اس کےذریعے ایسے مسائل پر بات چیت کا موقع ملا جو دونوں فریقوں کے لیئے اہم ہیں۔

زیرِ بحث آنے والے امور میں ایک اہم مسئلہ مزائل کے دفاعی نظام کا تھا۔ بش انتظامیہ نے پولینڈ میں مزائل شکن بلسٹک مزائل زمین پر نصب کرنے اور چیک ریپبلک میں ایک ریڈار اسٹیشن قائم کرنا تجویز کیا تھا۔ روسیوں نے اس تجویز کی سخت مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ اس نظام کا ہدف روس ہے۔ امریکی عہدے داروں نے اس خیال کو مسترد کر دیا تھا۔

اوہائیو ویسلیان یونیورسٹی کے شان کے کہتے ہیں کہ اوباما انتظامیہ نے مزائل کا ایک زیادہ متحرک، علاقائی دفاعی نظام تجویز کیا۔ اور اسے نیٹو کے لیڈروں نے منظور کر لیا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اصولاً ایک ایسے بلسٹک مزائل کے دفاعی نظام کی تعمیر شروع کرنے پر متفق ہوگئے ہیں جو پورے یورپ کے دفاع میں کام آ سکے گا۔ فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ ٹیکنیکل اعتبار سے ایسا کرنا ممکن ہو گا یا نہیں، لیکن سفارتی سطح پر یہ اوباما انتظامیہ کی بڑی فتح ہے ۔ بُش انتطامیہ نے بلسٹک مزائل کا جو دفاعی نظام تجویز کیا تھا ، اسے نیٹو کے اتحادیوں نے بڑی مشکل سے قبول کیا تھا، اور روسی اس پر سخت ناراض تھے ۔

انہوں نے کہا کہ صدر میدویدف نے نیٹو کی طرف سے مزائل کے دفاعی نظام میں تعاون کرنے کا دعوت نامہ قبول کر لیا ہے، اور تجزیہ کاروں کی نظر میں یہ ایک بڑی تبدیلی ہے ۔

ایک امریکی تھینک ٹینک رینڈ کارپوریشن کے تجزیہ کار لوویل شوارٹز کہتے ہیں کہ روس بڑی شدت سے مخالفت کرتا رہا ہے۔ روس کے ساتھ یہ بڑی وجہ نزاع رہی ہے اور روس کا اور صدر میدویدف کا متفق ہو جانا اور یہ کہنا کہ روس ہماری راہ میں رکاوٹ نہیں بنے گا اور ہمارے ساتھ تعاون کرے گا، ایک اہم سنگ میل ہے ۔

پرائیویٹ ریسرچ فرم،آرمز کنٹرول ایسوسی ایشن کے سربراہ،ڈیرئل کمبال کہتے ہیں کہ ماسکو کے رویے میں تبدیلی حوصلہ افزا ہے ۔ ان کا کہناتھا کہ لیکن جیسا کہ آپ نے روسی عہدے داروں سے سنا، ان کے ذہن میں اب بھی بہت سے سوالات ہیں ۔ وہ یہ بات واضح کرنا چاہتے ہیں کہ یہ نظام صرف مغربی یورپ کے لیئے نہیں ہونا چاہیئے جس میں روس کا یورپی حصہ شامل نہ ہو۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ کئی عشروں سے امریکہ اور روس کے درمیان مزائل کے دفاعی نظام کی ٹکنالوجی اور پہلے سے خبردار کرنے والی ریڈار کی ٹکنالوجی کے تبادلے کی باتیں ہوتی رہی ہیں، لیکن جب بات اصل تفصیلات کی ہو تو تعاون کہیں زیادہ مشکل ہو جاتا ہے ۔

افغانستان کے بارے میں، روس نے اتفاق کیا ہے کہ وہ غیر مہلک سازوسامان کو یورپ سے افغانستان پہنچانے کے لیئے ریلوے کے نظام میں توسیع کے لیئے تیار ہے ۔ کمبال کہتے ہیں کہ یہ اوباما انتظامیہ کی ان کوششوں کا حصہ ہے کہ ماسکو کے ساتھ تعلقات کا دوبارہ تعین کیا جائے ۔

ان کا کہنا تھا کہ روس کے تعاون کا اصل مقصد یہ ہے کہ نیٹو کو اس کی سپلائی لائن افغانستان تک پہنچانے میں مدد دی جائے ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ نیٹو کو افغانستان میں سامان پہنچانے کے لیئے اب صرف پاکستان پر انحصار نہیں کرنا ہوگا اور یہ بات بہت اہم ہے ۔ اس طرح اوباما انتظامیہ ایسے معاملات میں جو امریکہ اور نیٹو کے لیئے اہم ہیں، روس کا تعاون حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے ۔

لیکن شان کے کہتے ہیں کہ روس کا افغانستان میں نیٹو کی مدد کرنا دو دھاری تلوار ثابت ہو سکتا ہے۔ جب وہ ہماری مدد کا اشارہ کرتے ہیں، تو وہ ایک لحاظ سے ہمیں یہ پیغام بھی دے رہے ہوتے ہیں کہ ہمارے پاس اتنی طاقت ہے کہ اگر حالات ہماری مرضی کے مطابق نہ جا رہے ہوں، تو ہم یہ مدد بند بھی کر سکتے ہیں۔

تجزیہ کار کہتےہیں کہ نیٹو کے لیڈروں نے صدر براک اوباما کے ہاتھ اس طرح بھی مضبوط کیئے کہ انھوں نے واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان ہونے والے سٹرٹیجک ہتھیاروں میں کمی کے معاہدے کے لیئے حمایت کا اظہار کیا۔ امریکہ سینیٹ کو ابھی اس معاہدے کی توثیق کرنے کے لیئے ووٹ ڈالنے ہیں۔

XS
SM
MD
LG