رسائی کے لنکس

قندھار: تعلیم و دیگر پیشوں سے وابستہ افغان خواتین


طالبان کے دورِ حکومت میں، خواتین کو گھر سے باہر کام کرنے کی ممانعت تھی اور بچیوں کے اسکول جانے پر بندش عائد تھی

بڑے پیمانے پر سلامتی کے خدشات کے باوجود، جنوبی افغانستان کے صوبہ ٴقندھار میں گذشتہ برس کے مقابلے میں روزگار سے وابستہ خواتین کی تعداد میں قابلِ قدر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

صوبائی حکومت کی طرف سے 1150سے زائد خواتین کو ملازمت دی گئی ہے، جن میں سے زیادہ تر استانیاں ہیں۔ قندھار کے گورنر کے ترجمان، جاوید فیصل نے ’وائس آف امریکہ‘ کی افغان سروس کو بتایا کہ 2013ء میں معلمہ خواتین کی تعداد تقریباً 900 تھی۔

اُنھوں نے کہا کہ دونوں، تعلیم یافتہ اور غیر تعلیم یافتہ خواتین میں ملازمت کی تلاش بڑھ رہی ہے۔

جاوید فیصل کے بقول،’600 اَن پڑھ خواتین نے ہم سے رابطہ کیا ہے کہ اُنھیں روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ صوبائی حکومت کے خواتین کے امور، محنت اور سماجی بہبود کے محکمہ جات اِن خواتین کے لیے مناسب ملازمتیں تلاش کر رہے ہیں‘۔

قندھار طالبان اور اُس کے لیڈر، ملا محمد عمر کے اقتدار کا سابق گڑھ خیال کیا جاتا تھا، جو دسمبر 2001ء سے اُس وقت روپوش ہوئے جب امریکی قیادت والی اتحادی افواج نے طالبان کو اقتدار سے ہٹایا۔

طالبان کے دورِ حکومت میں، خواتین کو گھر سے باہر کام کرنے کی ممانعت تھی اور بچیوں کے اسکول جانے پر بندش عائد تھی۔

تاہم، صوبائی تعلیم سے وابستہ ایک اہل کار، محمد اواز نظری نے کہا ہے کہ آج سینکڑوں خواتین ہزاروں بچیوں کو تعلیم دینے کا کام بجا لارہی ہیں۔

نظری کے الفاظ میں، ’صوبے بھر میں تقریباً 47000 طالبات کو تقریباً 800 خاتون اساتذہ تعلیم دیتی ہیں۔ اور اُن کی تعداد خاصی بڑھ رہی ہے۔‘

سنہ 1994 سے 2002ء کے دوران، جب قندھار پر طالبان کی حکمرانی تھی، کسی ایک لڑکی نے بھی تعلیم پوری نہیں کی تھی۔ اِس سال، 500بچیاں ہائی اسکول کی تعلیم مکمل کریں گی۔

تعلیم داں کےطور پر روزگار کے حکومتی مواقع کے علاوہ، خواتین اب نجی شعبے میں بھی کام کرتی ہیں۔

مریم درانی ایک مقامی ریڈیو اسٹیشن چلاتی ہیں، ساتھ ہی وہ حقوقِ نسواں کی ایک سرکردہ سماجی کارکن ہیں۔ سنہ 2012میں اُنھوں نے ’باہمت بین الاقوامی خواتین‘ کا تمغہ جیتا۔ یہ سالانہ ایوارڈ امریکی وزیر خارجہ عطا کیا کرتے ہیں۔

مریم درانی کے بقول، ’میرے خیال میں، قندھار کی خواتین کے لیے مزید کاوشوں کی ضرورت ہے۔ نہ صرف یہ کہ ہمیں مزید مواقع چاہئیں، بلکہ جو کامیابیاں حاصل ہو چکی ہیں، اُنھیں مستحکم کرنے کی بھی ضرورت ہے‘۔

ایسے میں جب امریکہ افغانستان میں لڑائی کو ختم کرنے والا ہے، کچھ افغانوں کو اس بات کی تشویش لاحق ہے کہ اگر طالبان پھر اقتدار میں آئے تو وہ حقوقِ نسواں میں ہونے والی پیش رفت کو الٹ کر رکھ دیں گے۔

طالبان نے ظاہر کیا ہے کہ وہ خواتین کو ہدف بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ستمبر 2006ء میں طالبان جنگجوؤں نے صفیہ اماں جان کو گولی مار کر ہلاک کیا تھا، جو قندھار میں حقوقِ نسواں کے محکمے کی سربراہ تھیں۔ دو برس بعد، طالبان قاتلوں نے قندھار کی ایک سینئر خاتون پولیس عہدے دار ملالئی کاکڑ کو ہلاک کیا۔ اور اپریل 2009ء میں طالبان کے ایک حملے میں قندھار صوبائی کونسل کی ایک خاتون رُکن، ستارہ اچکزئی کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔
XS
SM
MD
LG