رسائی کے لنکس

افغانستان: مبینہ خودکش بمبار لڑکی اسکول جانے کی خواہشمند


سپوزمے

سپوزمے

مبینہ طور پر خودکش حملے کے لیے بھیجی جانے والی کم سن بچی اپنے گھر نہیں جانا چاہتی کیونکہ اس کے بقول اس کے بھائی اسے ماریں گے۔

افغانستان میں مبینہ طور پر خودکش حملے کی کوشش کے دوران حراست میں لی گئی کم سن لڑکی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے گھر واپس نہیں جانا چاہتی اور اس نے افغان حکومت سے تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

جنوبی صوبہ ہلمند میں پولیس نے دس سالہ سپوزمے کو گزشتہ ہفتے تحویل میں لیا تھا۔

لڑکی کے بقول اس کا بھائی طالبان کا ایک کمانڈر ہے جس نے اسے پولیس کی ایک چوکی پر خودکش حملہ کرنے کے لیے مجبور کیا۔

علاقے سے موصولہ اطلاعات کے مطابق بچی خود کو دھماکے سے اڑانے کی بجائے اپنے گھر واپس بھاگ گئی جہاں اس نے خود کش جیکٹ اتاری اور پھر تحفظ کے لیے پولیس کے پاس پہنچ گئی۔

طالبان نے اس منصوبے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

سپوزمے نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اب وہ گاؤں میں بحفاظت اپنے اسکول نہیں جا سکتی۔

’’ہاں میں یہاں رہنا چاہتی ہوں اور اسکول جانا چاہتی ہوں۔ میرے والد کہتے ہیں کہ میں (پولیس کے ساتھ) اسکول جا سکتی ہوں۔ میں چاہتی ہوں کہ وہ (پولیس) مجھے یہیں رکھیں۔‘‘

لڑکی کا مزید کہنا تھا کہ وہ گھر نہیں جانا چاہتی۔’’میرے بھائی مجھے ماریں گے یہاں تک کے میرے والد بھی مجھے خطرے کے پیش نظر اسکول نہیں جانے دیں گے۔ مجھے وہ یاد نہیں، انھیں یاد بھی کیوں کرنا چاہیے؟ وہ مجھ سے اچھا سلوک نہیں کرتے تھے۔ ۔ ۔ حکومت مجھے تحفظ دے رہی ہے۔‘‘

سپوزمے کا کہنا تھا کہ وہ خودکش حملہ نہ کرنے پر خوش ہے کیونکہ اس کے بقول سکیورٹی اہلکار اس کی حفاظت کر رہے ہیں۔

سپوزمے اور اس کے والد عبدالغفور

سپوزمے اور اس کے والد عبدالغفور


لڑکی کے والد عبدالغفور نے بھی وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اگر ان کی بیٹی کو گھر بھیجا جاتا ہے تو وہ اس کی حفاظت نہیں کر سکیں گے۔

’’میں اپنے بیٹوں سے خوفزدہ ہوں، میرے تین بیٹے ہیں ان میں سے ایک طالب ہے، یہ سب ایک ساتھ ہیں۔ مجھے اپنی زندگی کی فکر نہیں۔ مجھے یہ ڈر ہے کہ وہ لڑکی کو تکلیف پہنچائیں گے۔ لہذا حکومت مجھے زمین کا ایک ٹکڑا دے اور میری بیٹی کو تحفظ۔‘‘

عبدالغفور نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ حکومت ان کے اہل خانہ کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے لیے مدد کرے۔

بعض اطلاعات اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے حالیہ چند برسوں میں افغان پولیس نے درجنوں ایسے بچوں کو پکڑا جنہیں شدت پسند خودکش بمبار کے طور پر استعمال کرنا چاہتے تھے۔ ان میں سے بعض کی عمر محض چھ سال تھی۔
XS
SM
MD
LG