رسائی کے لنکس

افغان فوج کے سربراہ کا دورہ پاکستان


جنرل کریمی کی پاکستانی فوج کے سربراہ سے ملاقات

جنرل کریمی کی پاکستانی فوج کے سربراہ سے ملاقات

رواں سال کے اوائل میں چھ افغان کیڈٹس تربیت کی غرض سے کاکول آئے تھے جو یہاں تقریباً ڈیڑھ سال کا عرصہ گزاریں گے۔

پاکستان کے اپنے پڑوسی ملک افغانستان کے ساتھ تعلقات میں ماضی کی نسبت حالیہ مہینوں میں بہتری آئی اور اس کی ایک تازہ مثال یہ ہے کہ افغان فوج کے سربراہ جنرل شیر محمد کریمی پاکستانی فوج کی مرکزی تربیت گاہ کاکول میں پاسنگ آؤٹ پریڈ کے مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کر رہے ہیں۔

جنرل کریمی جمعہ کو دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچے جہاں انھوں نے اپنے پاکستانی ہم منصب جنرل راحیل شریف سے راولپنڈی میں فوج کے صدر دفتر میں ملاقات کی۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق ملاقات میں خطے خصوصاً افغانستان میں سلامتی و استحکام سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کے علاوہ پاک افغان سرحد کی موثر نگرانی کے اقدامات اور دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان تربیت اور دفاع کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔

بیان کے مطابق جنرل کریمی ہفتہ کو کاکول میں فوج کے تربیتی مرکز سے فارغ التحصیل ہونے والے کیڈٹس کی تقریب میں مہمان خصوصی کے طور پر شرکت اور خطاب کریں گے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ رواں سال کے اوائل میں چھ افغان کیڈٹس تربیت کی غرض سے کاکول آئے تھے جو یہاں تقریباً ڈیڑھ سال کا عرصہ گزاریں گے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات سابق افغان صدر حامد کرزئی کے دور حکومت میں اتار چڑھاؤ کا شکار رہے اور ان میں زیادہ تر کشیدگی ہی غالب رہی۔ لیکن گزشتہ سال اشرف غنی کے افغان صدر بننے کے بعد دونوں ملکوں کے رابطوں اور تعلقات میں خوشگوار تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔

پاکستان یہ کہتا آیا ہے کہ وہ ایک پرامن اور خوشحال افغانستان کے لیے اپنی تمام تر معاونت اور کوششیں جاری رکھے گا کیونکہ ایک پرامن افغانستان خود اس کے اپنے مفاد میں ہے۔

دونوں ملکوں کے اعلیٰ فوجی کمانڈروں کے مابین حالیہ مہینوں میں متعدد ملاقاتیں بھی ہوچکی ہیں اور مبصرین اسے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اچھی پیش رفت قرار دیتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG