رسائی کے لنکس

تین سالہ بچی سکینہ میں پولیو وائرس کی تصدیق اس وقت ہوئی جب وہ جسمانی طور پر معذور ہو چکی ہے۔

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں 13 سال کے بعد پولیو کا پہلا کیس سامنے آیا ہے جس کے بعد محکمہ صحت نے کابل میں انسداد پولیو کی مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

حکام کے مطابق یہ تازہ کیس تین سالہ بچی میں پولیو وائرس کی تشخیص کے بعد سامنے آیا۔

افغانستان دنیا کے ان تین ملک میں شامل ہے جہاں انسانی جسم کی اپاہج کر دینے والی بیماری پولیو کے وائرس پر تاحال پوری طرح قابو نہیں پایا جاسکا ہے۔ دیگر دو ملکوں میں پاکستان اور نائیجیریا شامل ہیں۔

ان تینوں ممالک میں مذہبی انتہا پسند انسداد پولیو مہم کو غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے اس کی نہ صرف حوصلہ شکنی کرتے آئے ہیں بلکہ اس مہم سے وابستہ افراد پر جان لیوا حملے بھی کر چکے ہیں۔

تاہم افغانستان میں طالبان نے اپنے دور حکومت میں پالیسی تبدیل کرتے ہوئے انسداد پولیو ویکسین کی اجازت دی تھی جس کے بعد یہاں اس موذی وائرس پر کافی حد تک قابو پانے میں مدد ملی تھی۔

افغانستان میں 2011ء میں 80، 2012ء میں 37 اور گزشتہ سال پولیو کے صرف 14 کیسز رپورٹ ہوئے۔

پولیو وائرس سے متاثرہ بچی سکینہ ایک غیر خانہ بدوش خاندان سے تعلق رکھتی ہے جو کابل کے مشرقی پہاڑی علاقے میں کیموں میں رہ رہا ہے۔

یہ کیس سامنے آنے کے بعد انسداد پولیو کے کارکنوں نے پورے علاقے کا دورہ کیا۔ یہاں نہ تو پینے کا صاف پانی دستیاب ہے اور نہ ہی بجلی کی سہولت۔

اس بچی میں پولیو وائرس کی تشخیص اس وقت ہوئی جب وہ جسمانی معذوی کا شکار ہو چکی ہے۔ اس کے والد ٹیکسی چلاتے ہیں اور وہ اکثر پاکستان کے سرحدی علاقوں میں جاتے رہتے ہیں۔

افغان محکمہ صحت کے کارکنان پاکستان سے آنے والے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کی ویکسین پلاتے ہیں لیکن بہت سے لوگ مقررہ راستوں کی بجائے کسی اور جگہ سے سرحد عبور کرنے کی وجہ سے یہ قطرے پینے سے محروم رہ جاتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت حال ہی میں یہ انکشاف کر چکا ہے کہ دنیا کے مختلف ملکوں میں سامنے آنے والے پولیو وائرس کا تعلق پاکستان میں پائے جانے والے وائرس سے ہے اور صوبہ خیبر پختونخواہ کا مرکزی شہر پشاور دنیا میں پولیو کا ’’سب سے بڑا گڑھ‘‘ ہے۔

پاکستان میں رپورٹ ہونے والے پولیو کیسز میں سے بھی اکثریت کا تعلق خیبر پختونخواہ اور اس سے ملحقہ قبائلی علاقوں سے ہے۔
XS
SM
MD
LG