رسائی کے لنکس

صدر حامد کرزئی نے ملک کے دورے پرآئے امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا سے کہا ہے کہ افغان حکومت 2014ء کی بجائے 2013ء میں ملک کی سیکیورٹی کا مکمل انتظام سنبھالنا چاہتی ہے

افغان صدر حامد کرزئی نے اس ہفتے کے شروع میں ملک کے جنوبی حصے میں مبینہ طورپر ایک امریکی فوجی کے ہاتھوں 16 عام شہریوں کی ہلاکتوں کے بعدنیٹو فورسز سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے مراکز دیہی علاقوں سے دوسری جگہوں پر منتقل کریں۔

مسٹر کرزئی کا یہ بیان جمعرات کو ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب طالبان نے یہ اعلان کیا ہے کہ وہ اس وقت تک امریکہ کے ساتھ اپنے امن مذاکرات معطل رکھیں گے جب تک امریکہ قیدیوں کے تبادلے سمیت دیگر مسائل پر اپنے موقف کی وضاحت نہیں کرتا۔

اطلاعات کے مطابق امریکہ قطر میں طالبان کے ساتھ کسی سیاسی سمجھوتے پرپہنچنے کے لیے مذاکرات کررہا ہے تاکہ اب جب کہ بین الاقوامی فورسز افغانستان سے اپنی روانگی شروع کرنے والی ہیں، علاقے میں دس سال سے جاری جنگ کا اختتام ہوسکے۔

صدر حامد کرزئی نے ملک کے دورے پرآئے امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا سے کہا ہے کہ افغان حکومت 2014ء کی بجائے 2013ء میں ملک کی سیکیورٹی کا مکمل انتظام سنبھالنا چاہتی ہے۔

جمعرات کو دارالحکومت کابل میں انہوں نے امریکی وزیر دفاع سے کہا کہ ان کا ملک اب اپنی سیکیورٹی کی تمام ذمہ داریاں نبھانے کے لیے تیار ہے۔

افغان راہنما نے نیٹو سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ وہ اتوار کو صوبے قندھار میں مبینہ قتل عام کے واقعہ کے بعد ، جس میں بچوں سمیت 16 افغان شہری ہلاک ہوگئے تھے، اپنی فوجیں دیہی علاقوں سے نکال لے۔ مذکورہ فوجی نے بعد ازاں ہتھیار ڈال دیے تھے۔

مسٹر کرزئی نے لیون پنیٹا سے یہ بھی کہا کہ مستقبل میں ایسے کسی بھی واقعہ کی روک تھام کے لیے لازمی طورپر تمام اقدامات کیے جانے چاہییں۔

امریکی وزیر دفاع نے وعدہ کیا کہ ہلاکتوں میں ملوث فوجی کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG