رسائی کے لنکس

افغان دارالحکومت کابل کے ایک تھینک ٹینک نے کہاہے کہ بین الاقوامی فورسز لوگوں کو فوجی کاروائیاں افغان قیادت میں کرنے کا غلط تاثر دے رہی ہیں جب کہ ان میں افغان فورسز قائدانہ کردار ادا نہیں کرتیں۔

تھینک ٹینک’ افغانستان انیلسٹز‘ نے بدھ کو جاری کردہ اپنی رپورٹ میں الزام لگایا ہے کہ نیٹو یہ اصطلاح اتنے وسیع پیمانے پر استعمال کرتی ہیں کہ کم ازکم ایک ایسی کارروائی کے متعلق بھی یہی دعویٰ کیا گیاتھا جو بنیادی طورپر امریکی فوجیوں نے کی تھی۔

رپورٹ میں جولائی 2011ء میں ایک امریکی فوجی کے ہاتھوں ایک افغان صحافی کو گولی مارنے کے واقع کو مثال کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

عمید خپلوواک کو ، جو غیر ملکی اور مقامی میڈیا کے لیے کام کرتے تھے، پچھلے سال جنوبی صوبے ارزگان میں آرٹی اے کے دفتر پر طالبان حملے کے بعد گولیوں کے تبادلے میں ہلاک کردیا گیاتھا۔

اس رپورٹ کی مصنفہ کیٹ کلارک نے لکھاہے کہ نیٹو کا کہناتھا کہ افغان فورسز نے طالبان کے خلاف کارروائی تھی ، جب کہ افغان حکومت عمید کی ہلاکت کا الزام طالبان پر لگاتی ہے۔

لیکن ایک فوجی تفتیش کے دوران یہ معلوم ہواتھا کہ ایک امریکی فوجی نے عمارت کو طالبان سے پاک کرانے کے دوران عمید کو ایک عسکریت پسند سمجھتے ہوئے گولی مار کر ہلا ک کردیا تھا۔

کلارک کا کہنا ہے کہ اگرچہ افغان فوجیوں نے گورنر کے احاطے پر طالبان کے ایک علیحدہ حملے کے خلاف حصہ نہیں لیاتھا اور آرٹی اے میں بھی ان کا کردار نہ ہونے کے برابر تھا لیکن نیٹو کے پریس ریلز میں انہیں افغان فورسز کے کھاتے میں ڈالا گیا تھا اور غیر ملکی افواج کی شمولیت کا کوئی ذکر نہیں کیا گیاتھا۔

امریکی فورسز کے ایک ترجمان نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ وہ اس رپورٹ کے باوجود یہ کہیں گے ان دن کی کارروائی افغان قیادت میں کی گئی تھی کیونکہ افغان فورسز اس دن کی پوری صورت حال کو دیکھ رہی تھیں۔

اتحادی ممالک کی افواج افغانستان سے 2014ء سے پہلے واپسی کا ارادہ رکھتی ہیں جس کے بعد کابل افغانستان میں سیکیورٹی کی تمام تر ذمہ داریاں سنبھال کا منصوبہ بندی کررہاہے۔

XS
SM
MD
LG