رسائی کے لنکس

پانچ سال میں ایسا پہلی بار ہواہے کہ افغانستان میں شہریوں کی ہلاکتیں کم ہوگئی ہیں۔

افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے جان کیوبس نے کابل میں ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ اس سال کے پہلے چار ماہ کے دوران 579 افراد ہلاک اور 1216 زخمی ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ مرنے اور زخمی ہونے والوں میں سے 80فی صد افراد باغیوں کے حملوں کا نشانہ بنے ۔ ان میں بم او رخودکش حملے بھی شامل ہیں۔

افغانستان میں زیادہ تر افراد بموں یا خودکش حملوں کی زد میں آکر ہلاک ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے نے کہا کہ صرف نو فی صدہلاکتوں کی ذمہ داری حکومت کی حامی افواج ہیں۔ اور ایسا اس لیے ہوا کیونکہ وہ شورش زدہ علاقوں میں شہریوں کو جنگ کےاثرات سے بچانے اور عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دکھ کی بات یہ ہے کہ حکومت مخالف عسکریت پسند عناصر کے دلوں میں عام شہریوں کے لیے کوئی نرم گوشہ نہیں ہے۔

خصوصی نمائندے کیوبس نے کانفرنس کو بتایا کہ باقی ماندہ 12 فی شہریوں کی ہلاکت کے اسباب کا پتا نہیں چل سکا۔

ان کا یہ بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب مشرقی صوبے پاکتیا میں اتحادی افواج کے فضائی حملے میں ایک ہی خاندان کے 8 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

افغان شہریوں کی ہلاکتوں کے مسئلے پر افغانستان اور امریکہ کی زیر قتادت اتحادی فورسز کے درمیان خاصے اختلافات پائے جاتے ہیں۔

نیٹو کے اعلان کے مطابق بین الاقوامی فورسز 2014ء کے اختتام تک افغانستان سے چلی جائیں گی۔اور افغان فوج اپنے ملک کی سیکیورٹی کا نظم ونسق سنبھال لیں گی۔

عطیات دینے والے ممالک افغانستان کی فوج اور پولیس کے لیے چارارب ڈالر فراہم کرنے پر غور کررہے ہیں، تاہم کیوبس کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں ملک کے نظم و نسق کو بہتر طورپر چلانے کے لیے افغانستان کو اپنا حصہ ادا کرنا ہوگا۔

XS
SM
MD
LG