رسائی کے لنکس

امریکی صدر براک اوباما اور کیری نے عبداللہ کو یکطرفہ کامیابی کا اعلان کرنے، عہدہ سنبھالنے کی کوشش یا کسی متوازی حکومت تشکیل دینے کے خلاف متنبہ کیا ہے، جیسا کہ اُن کے ایک مد مقابل امیدوار نے دھمکی دی ہے

افغان صدارتی انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کے معاملے کے حل کی کوششوں کے سلسلے میں، جن میں امیدوار عبداللہ عبداللہ کا دعویٰ ہے کہ وہ کامیاب ہوئے ہیں، امریکی وزیر خارجہ جان کیری جمعے کو کابل کا دورہ کریں گے۔

امریکی صدر براک اوباما اور کیری نے عبداللہ کو یکطرفہ کامیابی کا اعلان کرنے، عہدہ سنبھالنے کی کوشش کرنے یا کسی متوازی حکومت تشکیل دینے کے خلاف متنبہ کیا ہے، جیسا کہ اُن کے ایک مد مقابل امیدوار نے دھمکی دے رکھی ہے۔

انتخابات کے دوسرے مرحلے کے لیے 14 جون کو ہونے والے انتخابات کے ابتدائی نتائج میں دکھایا گیا ہے کہ اشرف غنی نے عبداللہ عبداللہ سے 10 لاکھ ووٹ زیادہ لیے ہیں۔

تاہم، منگل کے روز عبداللہ نے کہا کہ ’کسی شک کے بغیر‘ وہی فاتح ہیں، اور اس بات کا عہد کیا کہ وہ، بقول اُن کے، ’فریب کاری پر مبنی حکومت‘ کو تسلیم نہیں کریں گے۔ تاہم، اُنھوں نے کہا کہ کسی اقدام سے قبل، وہ کیری سے ملاقات کے منتظر رہیں گے۔

کیری نے خبردار کیا کہ ’ماورائے قانون ذرائع سے اقتدار سنبھالنے کے کسی اقدام کی صورت میں‘، افغانستان کو امریکی یا بین الاقوامی مالی اور سکیورٹی حمایت روک دی جائے گی۔

منگل کو مشرقی افغانستان میں تشدد کی کارروائیاں جاری رہیں، جہاں اہل کاروں کا کہنا ہے کہ ایک خود کش حملے میں 16 افراد ہلاک ہوئے، جن میں نیٹو کے چار فوجی بھی شامل ہیں۔ صوبہٴ پروان میں عہدے داروں نے بتایا ہے کہ 10 شہری اور دو پولیس اہل کار بھی ہلاک ہوئے۔ طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

تشدد اور سیاسی تنازع ایسے وقت ہو رہا ہے جب نیٹو کے فوجی اس سال کے آخر میں افغانستان سے اپنا ایک عشرہ طویل لڑاکا مشن ختم کرنے کی تیاری میں ہیں۔


امریکہ اور افغانستان کے درمیان سمجھوتا ہونے کی صورت میں، ہزاروں امریکی فوجی افغانستان میں رہ سکتے ہیں۔

ادھر، افغانستان میں سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا ہے اور منگل کو ایک صدارتی اُمیدوار عبداللہ عبداللہ نے اشرف غنی کی برتری کو مسترد کرتے ہوئے اپنی کامیابی کا دعویٰ کر دیا۔

کابل میں منگل کو اپنے ہزاروں حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’’اس میں کوئی شبہ نہیں، کہ ہم انتخاب کے اس مرحلے میں جیت گئے ہیں‘‘۔

افغانستان کے خود مختار الیکشن کمیشن نے پیر کو ابتدائی نتائج کا اعلان کیا تھا جن کے مطابق اشرف غنی 56.44 فیصد ووٹ لے کر عبداللہ عبداللہ سے آگے ہیں۔ عبد اللہ عبداللہ کو صدارتی انتخابات کے دوسرے اور حتمی مرحلے میں 43.56 فیصد ووٹ ملے۔

عبداللہ عبداللہ کے حامیوں نے نتائج کو یہ کہہ کر قبول کرنے سے انکار کر دیا کہ گنتی میں جعلی ووٹوں کو خارج نہیں کیا گیا۔

تاہم عبداللہ عبداللہ نے متوازی حکومت بنانے کے بارے میں کوئی اعلان نہیں کیا جیسا کہ پہلے توقع کی جا رہی تھی۔

اُنھوں نے کہا کہ ہم خانہ جنگی یا بحران نہیں چاہتے، بلکہ استحکام اور قومی یکجہتی چاہتے ہیں۔

عبداللہ عبداللہ نے انتخابات کے دوسرے مرحلے میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات عائد کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ ابتدائی نتائج کا اعلان اُس وقت تک نا کیا جائے جب تک کہ تمام پولنگ اسٹیشنز پر ووٹوں کی تصدیق نا ہو جائے۔

صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں عبداللہ عبداللہ کو لگ بھگ 45 فیصد جب کہ اشرف غنی کو 33 فیصد ووٹ ملے تھے۔

افغان الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ حتمی نتائج کا اعلان 22 جولائی کو کیا جائے گا۔

طالبان کی دھمکیوں کے باوجود صدارتی انتخابات کے دوران بڑی تعداد میں افغانوں کی جانب سے اپنے حق رائے دہی کے استعمال کو ملک میں پرامن انتقال اقتدار کے لیے اہم قرار دیا جا رہا تھا۔

XS
SM
MD
LG