رسائی کے لنکس

عبداللہ کی ووٹوں کی پڑتال کے عمل سے علیحدگی کی دھمکی


افغان صدارتی امیدوار عبداللہ عبداللہ

افغان صدارتی امیدوار عبداللہ عبداللہ

فضل احمد نے اس عمل کو ’’مذاق‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر اُن کی تحفظات دور نہیں ہوتے تو عبداللہ عبداللہ بدھ کی دوپہر تک اس عمل سے علیحدگی کا اعلان کر سکتے ہیں۔

افغان صدارتی اُمیدوار عبداللہ عبداللہ نے ووٹوں کی جانچ پڑتال کے عمل سے علیحدگی کی دھمکی دی ہے۔

اقوام متحدہ کے زیر انتظام ووٹوں کی جانچ پڑتال کا عمل جاری ہے لیکن عبداللہ عبداللہ کی طرف سے تازہ بیان نے افغانستان کے صدارتی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والے تعطل کو حل کرنے کی کوششیں کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔

عبداللہ عبداللہ کی ٹیم کے ایک سینیئر رکن فضل احمد مناوی نے منگل کو صحافیوں کو بتایا کہ جانچ پڑتال کرنے والوں نے اُن ووٹوں کو خارج کرنے پر آمادگی ظاہر نہیں کی جن کے بارے اُن کی ٹیم کا کہنا ہے کہ وہ ’جعلی ووٹ‘ تھے۔

فضل احمد نے اس عمل کو ’’مذاق‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر اُن کی تحفظات دور نہیں ہوتے تو عبداللہ عبداللہ بدھ کی دوپہر تک اس عمل سے علیحدگی کا اعلان کر سکتے ہیں۔

افغانستان میں 14 جون کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی مد مقابل تھے۔ لگ بھگ 80 لاکھ ووٹوں کے ’آڈٹ‘ کا کام حتمی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

اگرچہ ابتدائی نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ اشرف غنی کو عبداللہ عبداللہ پر برتری حاصل ہے لیکن دونوں نے انتخابات میں کامیابی کا دعویٰ کیا۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی دونوں افغان صدارتی اُمیدواروں سے ملاقات کے بعد ایک معاہدہ طے پایا تھا جس میں تمام ووٹوں کے ’آڈٹ‘ پر اتفاق کیا گیا تھا اور یہ عمل اقوام متحدہ کی نگرانی میں ہو رہا تھا۔

واشنگٹن اس اُمید کا اظہار کر چکا ہے کہ یہ عمل جلد مکمل ہو جائے گا اور نیا صدر رواں ماہ کے اواخر تک اپنا منصب سنبھال سکے گا۔

XS
SM
MD
LG