رسائی کے لنکس

سابق امریکی وزیر خارجہ ہنری کیسنجر کہتے ہیں کہ امریکہ کو اپنے انخلاء کو تعمیری بنانا ہوگا۔

افغانستان کی جنگ جوں جوں اپنے خاتمے کی طرف بڑھ رہی ہے ، پاکستان سمیت خطے کے دیگر ملک امریکی افواج کی واپسی کے بعدکے افغانستان کے لئے اپنی حکمت عملی ترتیب دے رہے ہیں ۔ واشنگٹن میں بعض ماہرین کا خیال ہے کہ افغانستان کی بساط پر سب سے اہم کھلاڑی پاکستان ، امریکہ اور طالبان ہی رہیں گے ، جبکہ بعض کاکہنا ہے کہ اس جنگ کے نتائج سے سب سے زیادہ متاثر چونکہ امریکہ نہیں وہ ملک ہونگے ، جن کی سرحدیں افغانستان کے ساتھ ہیں ، اس لئے افغانستان کے مستقبل میں ان کے کردار کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔

افغانستان میں دس سال سے جاری جنگ اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہی ہے یا نہیں ، لیکن صدر اوباما کی جانب سے اس سال جون میں کئے گئے اعلان کے مطابق اس جنگ کو بند کرنے کا ابتدائی مرحلہ اس سال کے آخر میں کرسمس کی چھٹیوں تک شروع کر دیا جائے گا ۔

سابق امریکی وزیر خارجہ ہنری کیسنجر کہتے ہیں کہ ہم تو وہاں سے چلے جائیں گے مگر ہمیں اس انخلاء کو تعمیری بنانا ہے ۔ آپ کو تعاون کرنا ہوگا ، ورنہ نہ چاہتے ہوئے بھی نتائج کے لئے تیار رہنا ہوگا ۔

ہنری کسنجر ستمبر 1973ء میں امریکہ کے وزیر خارجہ بنے تھے ، اور گو افغانستان کی طرح کئی سال تک جاری رہنے والی ویت نام جنگ ختم کرانے کے لئے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں دسمبر 1973ء میں امن کا نوبل انعام دیا گیا تھا ۔ افغانستان کی جنگ میں یہ اوباما انتظامیہ کو اپنے اہداف کا تعین حقیقت پسندی سے کرنے کی نصیحت کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ افغانستان کی سرحدیں پاکستان کے ساتھ ہیں جس کے سٹرٹیجک مقاصد امریکہ کے سٹرٹیجک مقاصد سے مختلف ہیں ۔ اور دہشت گردی کی پناہ گاہیں ان علاقوں میں ہیں ، جہاں پاکستان کے لئے اپنی رٹ قائم رکھنا بہت اچھے حالات میں بھی مشکل ہے، کیونکہ برطانوی دور میں بھی یہ علاقے مکمل طور پر کبھی کنٹرول میں نہیں رہے ۔

ان کے خیال میں طالبان سے بات چیت کی حکمت عملی میں کوئی مضائقہ نہیں مگر افغانستان کے حل میں خطے کے دیگر ملکوں کے تفکرات کو بھی پیش نظر رکھا جانا چاہئے ۔

لیکن واشنگٹن ہی میں بعض ماہرین کی رائے میں خطے کے ملکوں نے جس میں پاکستان ہی نہیں ایران ، ترکی اور چین بھی شامل ہیں، 2014ء کے بعد کی حکمت عملی ترتیب دینی شروع کردی ہے ۔ جب امریکہ افغان حکومت کی مدد کے لئے خطے میں موجودنہیں ہوگا ۔

تجزیہ کار ولی نصر کہتے ہیں کہ آج افغانستان کا سب سے اہم کھلاڑی امریکہ ، یہ اعلان کر رہا ہے کہ وہ 2014ء کے بعد وہاں موجود ہی نہیں ہوگا تو پاکستان ، ایران ، ازبکستان ، تاجکستان ، یہ سارے ملک مل کر بیٹھیں گے اور2014ءکے بعد کے افغانستان کے بارے میں غور کریں گے کہ کیسے انہیں اس وقت اپنے مفادات کا تحفظ کرنا ہے ۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے صحافی راجیو چندر شیکھرن ، کہتے ہیں کہ افغانستان کا اینڈ گیم ابھی ترتیب دیا جا رہا ہے لیکن مسئلے کا حل اس بد عتمادی کو دور کرنے میں ہے ، جو افغانستان میں دلچسپی رکھنےو الی طاقتوں کو ایک دوسرے پر ہے ۔

کیا بھارت افغان سیکیورٹی فورسز کو تربیت دینے میں مدد کر سکتا ہے ؟ کیا ایران ، پاکستان یا روس کو چوکنا کئے بغیر افغانستان کی کوئی معاشی مدد کر سکتا ہے ۔ کیا چین افغانستان کے قدرتی وسائل نکالنے میں کوئی مدد ایسے کر سکتا ہے کہ خطے کے دیگر ملک اسے غیر ضروری مداخلت نہ سمجھیں ۔ تو یہ توازن قائم کرنے کا ایک نازک کرتب ہے ۔ کیا امریکہ جو سب کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کر رہا ہے ، کسی حد تک ان ملکوں کی دلچسپی کو دوسروں کو ترغیب دینے کے لئے استعمال کر سکتا ہے ؟ کیا بھارت کی طرف سے افغان سیکیورٹی فورس کی تربیت میں دلچسپی کی وجہ سے پاکستان کوراضی کیا جا سکتا ہے کہ وہ طالبان سے مفاہمت کے عمل میں زیادہ بامعنی انداز سے شامل ہو۔

سابق امریکی سفیر ہنری کسنجر کہتے ہیں کہ افغانستان کی جنگ کا انجام اگرامریکہ کی مرضی کے مطابق نہ بھی ہوا ، تو بھی وہ اپنی فوج نکال کر واپس چلا جائے گا ۔

پاکستان سمیت خطے کے ملک افغان جنگ کے نتائج سے متفق ہوں یا نہیں لیکن انہیں برداشت انہی کو کرنا ہوگا ۔ اس لئے یہاں واشنگٹن میں ماہرین کا کہنا ہے کہ علاقائی طاقتوں کا اپنا مفاد اسی میں ہے کہ وہ افغانستان کے مسئلے کے حل میں کچھ نہ کچھ کردار اداضرور کریں ۔

XS
SM
MD
LG