رسائی کے لنکس

افغانستان عام معافی کا قانون منسوخ کرے : حقوق کی تنظیم


افغانستان عام معافی کا قانون منسوخ کرے : حقوق کی تنظیم

افغانستان عام معافی کا قانون منسوخ کرے : حقوق کی تنظیم

انسانی حقوق کی ایک ممتازبین الاقوامی تنظیم نے افغان حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اُس قانون کو منسوخ کردے جو اُن لوگوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے جو وسیع پیمانے پر انسانی حقوق کی پامالیوں کے ذمّے دار ہیں۔

ہیومن رائیٹس واچ نے کہا ہے کہ افغانستان میں ”قومی استحکام اور مصالحت کے قانون“کو ختم کیا جانا چاہئیے۔

اس قانون کے بِل کو پارلیمنٹ نے 2007 میں منظور کیا تھا۔اگر چہ صدر حامد کرزئى نے اُس پر دستخط نہیں کیے تھے، لیکن افغانستان کے سرکاری گزٹ نے قرار داد کی صورت میں اس بل کو 2008 شائع کردیا۔اور افغانستان میں سرکاری گزٹ جس کسی مسودہ قانون کو شائع کردیتاہے، وہ قانون بن جاتا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم نے کہا ہے کہ جنگی سرداروں کے ایک طاقتور اتحاد اور اُن کے حامیوں نے اس مسودہ قانون کو پارلیمنٹ سے منظور کروایا تھا،تاکہ اُن لوگوں کے خلاف مقدمے نہ چلائے جاسکیں جو 2001 میں افغان عبوری حکومت کے قیام سے پہلے مسلح تنازعات میں ملوّث رہے تھے ۔

لیکن ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے اس قانون کا اطلاق طالبان اور اُن دوسرے گروپوں پر بھی ہوسکتا ہے ، جو اس وقت لڑ رہے ہیں اور خلافِ انسانیت جرائم کا ارتکاب کررہے ہیں۔

تنظیم کے ایشیا ڈائریکٹر برَیڈ ایڈمز نے کہا ہے کہ یہ قانون افغان شہریوں کو یہ پیغام دیتا ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کرنے والےلوگ نہ صرف آرام سے ملک رہیں گے ، بلکہ ہوسکتا ہے کہ جلد ہی مزید ایسے لوگوں کو خوش آمدید کہا جائے۔

XS
SM
MD
LG