رسائی کے لنکس

پاکستان نے کہا ہے کہ افغانستان اور ایران دونوں ہی اس کے دشمن نہیں ہیں اور وہ ان ملکوں کے ساتھ اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے عزم پر کاربند ہے۔

افغانستان اور ساتھ پاکستان کے تناؤ میں اس وقت اضافہ ہوا تھا جب گزشتہ ہفتے چمن میں پاک افغان سرحد پر دونوں ملکوں کی سرحدی فورسز کے درمیان فائرنگ و گولہ باری کا مہلک تبادلہ ہوا جب کہ بلوچستان کے ساتھ ملنے والی سرحد پر دس ایرانی محافظوں کی شدت پسندوں کے حملے میں ہلاکت کے بعد اسلام آباد اور تہران کے درمیان تلخ بیانات کا تبادلہ ہوا تھا۔

بدھ کو اسلام آباد میں ایک سیمینار میں شرکت کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں وزیراعظم نواز شریف کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ چمن سرحد پر پیش آنا والا واقعہ بدقسمتی تھا اور پاکستان کسی بھی طرح افغان حدود تک رسائی کا خواہاں نہیں ہے۔

"ہماری کوئی خواہش نہیں ہے کہ افغانستان کی حدود میں کوئی رسائی ہو، امید ہے کہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔ ہمیں امید ہے کہ رمضان کے بعد وہاں سے دورے کے لیے عبداللہ عبداللہ (چیف ایگزیکٹو) اور حامد کرزئی (سابق صدر) آئیں گے۔"

پاکستان کی حکومت کو تین پڑوسی ممالک (بھارت، افغانستان اور ایران) کے ساتھ تعلقات میں تناؤ پر خاص طور پر حزب مخالف کی طرف سے یہ کہہ کر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے کہ یہ موجودہ حکومت کی خارجہ پالیسی کی ناکامی کو ظاہر کرتی ہے۔ لیکن حکومت اس تنقید کو مسترد کرتی ہے۔

گو کہ ایرانی سرحد پر پیش آنے والے واقعے کے بعد ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف ہنگامی دورے پر اسلام آباد آ کر پاکستانی قیادت سے بات چیت کر کے مختلف امور پر اتفاق کر گئے تھے لیکن رواں ہفتے ہی ایران کی مسلح افواج کے اعلیٰ ترین عہدیدار میجر جنرل محمد باقری نے پاکستان کی طرف سے تہران مخالف شدت پسندوں کے خلاف ٹھوس کارروائی نہ کیے جانے کی صورت میں پاکستانی حدود میں عسکریت پسندوں کے مبینہ ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا بیان دیا تھا۔

اسلام آباد نے ایرانی سفیر کو طلب کر کے اس بیان کو دوطرفہ تعلقات کی روح کے منافی قرار دیا اور اپنی تشویش سے انھیں آگاہ کیا۔

بدھ کو مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے بھی صحافیوں سے گفتگو میں ایران سے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی وزیرخارجہ کے ساتھ بات چیت میں اتفاق ہوا تھا کہ سرحدی امور سے متعلق کمیشن کو مضبوط کیا جائے جس میں دونوں جانب سے چار، چار ارکان شامل ہوں گے اور اس کا اجلاس اسی ماہ منعقد ہوگا۔

"اور جو سرحدی امور سے متعلق لائحہ عمل ہے اور ہاٹ لائنز ہیں ان کو مضبوط کریں گے تاکہ اس قسم کے واقعات اگر ہوں تو فوری طور پر مقامی طور پر ہی طے ہو جائیں اور یہ خیال نہ پیدا ہو کہ وہاں کوئی ایسی سرگرمی ہے جس کی معاونت کی جا رہی ہے۔"

انھوں نے ایک بار پھر پاکستان کے موقف کو دہرایا کہ جس طرح سرحد پر نگرانی کے نظام کو موثر بنانے کے لیے وہ افغان سرحد پر اقدام کر رہا ہے ایران کے ساتھ مل کر اس سرحد پر بھی ٹھوس اقدام کرے گا تاکہ ایسے واقعات دوبارہ رونما نہ ہوں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG