رسائی کے لنکس

اقتصادی ترقی کے لیے معاونت ضروری ہے: افغان عہدیدار


فائل فوٹو

فائل فوٹو

گزشتہ سال ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کی شرح اور دیگر وجوہات کی وجہ سے تقریباً دو لاکھ افغان شہریوں نے بہتر مستقبل کے لیے یورپی ملکوں کا رخ کیا۔

افغانستان میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور عدم تحفظ کی وجہ سے ایک بڑی تعداد میں افغان شہری یورپی ملکوں کا رخ کر رہے ہیں۔

افغان حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں ترقیاقی منصوبوں کے ذریعے روزگار کے مواقع پیدا کر کے اس صورت حال کا تدارک کیا جا سکتا ہے۔

رواں ہفتے برسلز میں افغانستان کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے والے ملکوں کی کانفرنس کے موقع پر افغان راہنماؤں کی طرف سے اس بات پر زور دیا جائے گا کہ ملک میں معاشی ترقی کی طرف پیش رفت کے لیے ضروری ہے کہ یورپی ملک افغانستان کی معاونت کریں۔

گزشتہ سال ملک میں بڑھتی ہوئے بے روزگاری کی شرح اور دیگر وجوہات کی وجہ سے تقریباً دو لاکھ افغان شہریوں نے بہتر مستقبل کے لیے یورپی ملکوں کا رخ کیا جس کی وجہ سے تارکین وطن کا عالمی بحران مزید سنگین ہو گیا۔

یورپی ملکوں کو افغان تارکین وطن کی وجہ سے تارکین وطن کے معاملے سے نمٹنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور اس بنا پر انہوں نے افغان حکومت پر زور دیا کہ وہ افغان شہریوں کی یورپی ملکوں کی طرف منتقلی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے۔

افغانستان کے وزیر خزانہ عقیل حکیمی نے اتوار کو افغان قانون سازوں کو بتایا تھا کہ "اگر ہم نے تارکین وطن کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے پش و پیش سے کام لیا تو یورپی ملکوں میں رائے عامہ تبدیل ہو جائے گی اور اس سے (افغانستان کے لیے) معاونت پر اثر پڑے گا۔"

جب کہ افغانستان کے وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی کا کہنا ہے کہ یورپی ملکوں نے افغانستان کو متنبہ کیا ہے کہ اگر افغانستان نے (افغان) تارکین وطن کے معاملے کی طرف توجہ نہ دی تو اسے امداد میں کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ربانی نے پارلیمان کے ایوان زیریں کو بتایا کہ "تارکین وطن کے بحران کی وجہ سے میزبان ملکوں کی سیاست تبدیل ہو گئی ہے۔"

انہوں ںے مزید کہا کہ "انہوں نے امیگریشن کے قوانین سخت کر دیے ہیں اور افغانستان کو بار بار کہا ہے کہ وہ سیاسی پناہ کے متلاشی (شہریوں) کی ذمہ داری قبول کرے۔"

افغان عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی یورپ کی طرف نقل مکانی کو روک سکتے ہیں لیکن اس کے لیے ملک میں روزگار کے مواقع پیدا کرنا ضروری ہے جس کے لیے انہیں بین الاقوامی معاونت کی ضرورت ہے۔

افغانستان کے صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ برسلز کانفرنس میں شرکت کریں گے اور افغان وزیر خارجہ اور وزیر داخلہ بھی اس موقع پر ان کے ہمراہ ہوں گے۔

برسلز کانفرنس میں افغان حکومت کی طرف سے ملک میں سیاسی اور اقتصادی ترقی کے لیے اصلاحات کا ایک پانچ سالا لائحہ عمل پیش کیا جائے گا۔

یورپی یونین اور افغانستان کی حکومت کی میزبانی میں ہونے والی اس کانفرنس میں متوقع طور پر70 سے زائد ممالک اور کئی بین الاقوامی تنظیمیں اور ادارے شرکت کریں گے۔

کانفرنس کے شرکا سے خطاب کرنے والوں میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون اور امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری بھی شامل ہیں۔

XS
SM
MD
LG