رسائی کے لنکس

افغانستان: بھارتی قونصل خانے پر حملہ، پاکستان کی مذمت


پاکستانی وزارت خارجہ نے بھارتی قونصل خانے پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سفارتی ’مشنز‘ پر حملوں کا کوئی جواز نہیں۔

افغانستان کے مغربی شہر ہرات میں جمعہ کو طلوع آفتاب سے قبل مسلح افراد نے بھارتی قونصل خانے پر حملہ کیا جن میں خودکش بمبار بھی شامل تھے۔

اس حملے میں بھارت کا سفارتی عملہ محفوظ رہا۔ پولیس کے مطابق کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی جھڑپ کے بعد تمام حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

ہرات کے قونصل خانے میں عملے کے 10 افراد موجود تھے۔ قونصل خانے کی عمارت کی حفاظت کے لیے بھارتی کمانڈوز بھی تعینات ہوتے ہیں جن کو افغان فورسز کی معاونت حاصل ہوتی ہے۔

صوبہ ہرات کی پولیس کے سربراہ سمیع اللہ قطرہ نے بتایا کہ چار حملہ آور جن میں خودکش بمبار بھی شامل تھے قونصل خانے کے قریب گھروں میں طلوع صبح سے قبل گھسے۔

پولیس کے مطابق چار حملہ آوروں میں سے تین خودکش بمبار تھے اور اُن کے پاس جدید خود کار ہتھیاروں کے علاوہ دستی بم اور راکٹ بھی تھے۔

پاکستانی وزارت خارجہ نے بھارتی قونصل خانے پر حملے کی مذمت کی ہے۔

دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم کے دفتر سے جاری ایک تحریری بیان میں کہا گیا کہ ’’ سفارتی مشنز پر حملوں کا کوئی جواز نہیں، یہ بات اطمینان بخش ہے کہ حملے میں سفارتی عملے میں سے کوئی بھی زخمی نہیں ہوا۔‘‘

ہرات میں قونصل خانے کو ایسے وقت نشانہ بنایا گیا جب بھارت میں حالیہ انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی واضح کامیابی کے بعد نریندر مودی آئندہ ہفتے بطور وزیراعظم حلف اٹھانے جا رہے ہیں۔

اس تقریب حلف برداری میں بھارت نے جنوبی ایشیائی ممالک کی تنظیم سارک ممالک کے تمام سربراہان حکومت بشمول پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کو بھی شرکت کی دعوت دی ہے۔

اس سے قبل بھی افغانستان میں بھارت کے سفارت خانے و قونصل خانے پر حملے ہو چکے ہیں۔ گزشتہ سال جلال آباد میں بھارتی قونصل خانے پر حملے میں نو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

جب کہ 2008 میں کابل میں بھارتی سفارت خانے پر حملے میں متعدد افراد ہلاک و زخمی ہو گئے تھے۔

افغانستان میں حالیہ مہیںوں میں دہشت گرد حملوں میں تیزی آئی ہے اور طالبان جنگجوؤں نے 14 جون کو صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں رخنا ڈالنے کی دھمکی دے رکھی ہے۔

دوسرے مرحلے میں عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی مد مقابل ہیں جن میں سے کامیاب ہونے والا اُمیدوار افغانستان کے موجودہ صدر حامد کرزئی کی جگہ ملک کا نظام سنبھالے گا۔
XS
SM
MD
LG