رسائی کے لنکس

نورستان پر حکومتی قبضہ بحال

  • ب

نورستان پر حکومتی قبضہ بحال

نورستان پر حکومتی قبضہ بحال

حکام کا کہنا ہے کہ افغان سکیورٹی فورسز اور اتحادی افواج نے منگل کو ایک مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے شمال مشرقی علاقے نورستان پر تین روز قبل کیا گیا طالبان کا قبضہ ختم کرا لیا ہے۔

لگ بھگ 500 طالبان جنگجوؤں نے گذشتہ ہفتے نورستان کے صدر مقام برگِ ماہتل پر چند روز کی لڑائی کے بعد اس وقت قبضہ کر لیا تھا جب وہاں موجود افغان سرحدی پولیس نے یہ کہہ کر علاقہ خالی کر دیا کہ وہ جنگی حکمت عملی کے تحت پسپائی اختیار کر رہے ہیں۔

حکام کے مطابق منگل کے روز بین الاقوامی فورسز کے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے تقریباً 200 افغان فوجیوں کو الصبح پاکستان سے ملحقہ پہاڑی علاقے میں اْتاراگیا اور انھوں نے کسی مذاحمت کا سامنا کیے بغیر برگِ ماہتل پر حکومتی قبضہ بحال کر دیا۔

اتحادی افواج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تمام آپریشن میں نہ تو کوئی گولی چلی اور نہ ہی کوئی زخمی ہوا۔

واضح رہے کہ ایک روز قبل بین الاقوامی فورسزنے طالبان کی دفاعی پوزیشنوں کو کمزور کرنے کے لیے فضائی حملے کیے تھے جن میں اطلاعات کے مطابق غاروں میں قائم شدت پسندوں کے کمانڈ سینٹرکو بھی نشانہ بنایا گیا۔

گذشتہ ہفتے افغان حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ نورستان میں ہوئی جھڑپوں میں پاکستان کے شمال مغربی علاقے سوات میں طالبان جنگجوؤں کا سربراہ مولانا فضل الله ہلاک ہو گیا تھا لیکن اس دعوے کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی اور پاکستان میں طالبان تحریک کے ایک اعلیٰ کمانڈر مولوی فقیر محمد نے مولانا فضل الله کے مارے جانے کی خبر کی تردید بھی کی تھی۔

نورستان میں طالبان کا اثرورسوخ گذشتہ برس اکتوبر میں اس وقت بڑھا جب عسکریت پسندوں نے سرحدی علاقے میں قائم امریکی افواج کی ایک چوکی پر حملہ کرکے آٹھ فوجیوں کو ہلاک کر دیااور اس حملے کے بعد امریکی افواج نے چوکی خالی کر دی۔

XS
SM
MD
LG