رسائی کے لنکس

جمعرات سے شروع ہونے والے جانچ پڑتال کے سلسلے میں اب تک کل 23 ہزار میں سے 133 سے زائد بیلٹ بکسوں کے ووٹوں کی جانچ کی جا چکی ہے۔

افغانستان میں صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں ڈالے گئے تقریباً تمام 80 لاکھ ووٹوں کی تصدیق کا عمل جاری ہے اور امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ افغان اور بین الاقوامی حکام کو امید ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر ایک ہزار بیلٹ بکسوں کی جانچ پڑتال کی جا سکے گی۔

افغانستان اور پاکستان کے لیے امریکہ کے نائب نمائندہ خصوصی ڈینیئل فلڈمین نے واشنگٹن میں صحافیوں کو بتایا کہ جمعرات سے شروع ہونے والے جانچ پڑتال کے سلسلے میں اب تک کل 23 ہزار میں سے 133 سے زائد بیلٹ بکسوں کے ووٹوں کی جانچ کی جا چکی ہے۔

فلڈمین کا کہنا تھا کہ یہ سلسلہ اور تیز ہو جائے گا جب تمام بین الاقوامی مبصر کابل میں اپنا کام شروع کریں گے۔

مقامی اور بین الاقوامی مبصرین کے علاوہ صدارتی امیدواروں عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی کے نمائندے، اقوام متحدہ کے حکام اور ذرائع ابلاغ کے نمائندے بھی اس عمل میں حصہ لیں گے۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی کے درمیان اس بات پر مصالحت کروائی تھی کہ اقوام متحدہ کی زیر نگرانی تمام ووٹوں کی دوبارہ تصدیق ہوگی اورحتمی نتائج کو تسلیم کیا جائے گا۔

افغانستان اور عراق کے لیے سابق امریکی سفیر رائن کروکر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ " جو کچھ سیکرٹری کیری کے دورہ کابل سے اخذ ہوا وہ معجزے کے زمرے میں آتا ہے۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک بار پھر ظاہر کرتا ہے کہ افغانستان کے پیچیدہ سیاسی نظام میں امریکہ کا کردار کتنا اہم ہے۔"

پانچ اپریل کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں طالبان کی دھمکیوں کے باجود لاکھوں افغانوں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا تھا جب کہ 14 جون کو ہونے والے دوسرے مرحلے کی پولنگ میں بھی افغان حکام کے مطابق ووٹوں کی شرح خاصی بلند رہی۔

پہلے مرحلے میں عبداللہ کو برتری حاصل تھی لیکن دوسرے مرحلے کے بعد سامنے آنے والے ابتدائی نتاج میں اشرف غنی سبقت لے گئے۔

عبداللہ عبداللہ نے ابتدائی نتائج کو مسترد کرتے ہوئے موجودہ صدر حامد کرزئی، الیکشن حکام اور اشرف غنی پر الزام عائد کیا کہ انھوں نے ان کے خلاف مل کر انتخابات میں دھاندلی کی۔

ابتدائی نتائج سامنے آنے کے بعد عبداللہ نے انھیں تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ "بلاشبہ وہ ہی فاتح ہیں"۔ ان کے اس بیان کے بعد ملک میں پہلی مرتبہ جمہوری انداز میں انتقال اقتدار کا موقع خطرے میں پڑ گیا جس کے حل میں مدد کے لیے امریکہ کو اپنا کردار ادا کرنا پڑا۔

XS
SM
MD
LG