رسائی کے لنکس

امریکہ نے بگرام کے قیدیوں کے ناموں کا اعلان کردیا


افغانستان میں باگرام کا قید خانہ

افغانستان میں باگرام کا قید خانہ


امریکہ کے محکمہ دفاع نے پہلی بار اُن لوگوں کے ناموں کا اعلان کیا ہے ، جو افغانستان میں امریکہ کے بگرام کے فوجی اڈے کے جیل میں قید ہیں۔

امریکہ میں انسانی حقوق کی ایک تنظیم، شہری آزادیوں کی امریکی یونین یا اے سی ایل یو نے کہا ہے کہ ناموں کی اس فہرست میں اُن 645 قیدیوں کے نام درج ہیں جو 2009 میں ستمبر کے مہینے میں بگرام کے جیل میں تھے۔تنظیم کا کہنا ہے کہ اُس نے قیدیوں کی حراست اور اُن کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کے بارے میں تفصیلات جاننے کے لیے اُسی مہینے ایک مقدمہ دائر کیا تھا۔

اے سی ایل یو نے کہا ہے کہ فہرست کو بہت زیادہ سینسر کیا گیا ہے اور اس میں قیدیوں کی شہریت یا اس بارے میں اطلاعات فراہم نہیں کی گئى ہیں کہ وہ کب سے قید ہیں، اُنہیں کسی ملک میں گرفتار کیا گیا تھا اور کن حالات میں اُنہیں پکڑا گیا تھا۔

اے سی ایل یو کی وکیل مَیلیسا گُڈ مین کا کہنا ہے کہ بگرام کے جیل میں سینکڑوں لوگ یہ جانے بغیر کہ اُنہیں کیوں گرفتار کیا گیا تھا، برسوں سے کس مپُرسی کی ایک ایسی حالت میں پڑے ہوئے ہیں، جس میں اُن کے حقوق کو پامال کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ امریکی حکومت جن اطلاعات کو بدستور چُھپائے ہوئے ہے ، وہ اتنی ہی اہم ہیں جتنا کہ ان قیدیوں کے نام ہیں۔

امریکی فوجیوں پر الزام ہے کہ انہوں نے 2002 میں بگرام کے جیل میں دو قیدیوں کو مار مار کر ہلاک کردیا تھا۔

نیٹو اور افغانستان نے اس ماہ کے شروع میں ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت بگرام کے جیل کے انتظام کی ذمّے داریاں امریکی فوج سے افغان حکومت کو منتقل کردی جائیں گی۔

امریکی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ جیل کو اس سال کے آخر تک افغان حکومت کے حوالے کیا جاسکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG