رسائی کے لنکس

افغانستان ممنوعہ کیمیکلز کی تجارت کی روک تھام کے لیے اقوام متحدہ سے تعاون کرے گا


افغانستان ممنوعہ کیمیکلز کی تجارت کی روک تھام کے لیے اقوام متحدہ سے تعاون کرے گا

افغانستان ممنوعہ کیمیکلز کی تجارت کی روک تھام کے لیے اقوام متحدہ سے تعاون کرے گا

افغانستان کے سینیئرعہدےدار اور ماحولیات سے متعلق اقوام متحدہ کا ادارہ (یواین ای پی) غیر قانونی کیمیائی مادوں کی تجارت کی روک تھام کے لیے مل کر کام کرنے کے لیے متفق ہو گئے ہیں۔

بنکاک میں دستخط ہونے والے مفاہمتی یادداشت میں اقوام متحدہ اور افغانستان نے ان کیمیائی مادوں کو اپنا ہدف قرار دیا ہے جن کے بارے میں سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ وہ اوزون کی تہہ کے لیے نقصان دہ ہیں اور جن کا آب و ہوا کی تبدیلی میں عمل دخل ہوتا ہے۔

افغانستان کی وزارتِ مالیات میں کسٹمز اور مالیات کے نائب وزیر سعید مبین شاہ نے کہا ہے کہ امریکہ افغانستان کے کسٹمز کے عہدے داروں کو خطرناک کیمیکلز کی نشان دہی کے سلسلے میں تربیت دے گا۔

انہوں نے کہا کہ خاص طور پر موجودہ وقت میں ہمیں کسٹم کے عہدے داروں کی صلاحیت بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ اس کی اہمیت اس لیے زیادہ ہے کیوں کہ مناسب صلاحیت کے بغیر عہدے دار بہت سے امور انجام نہیں دے سکتے، خاص طور پر اوزون کی تہہ کو نقصان پہنچانے والے کیمیائی مادوں کی نشان دہی جیسے امور۔

اس معاہدے میں افغانستان کے کسٹم کے عہدے داروں کے لیے مونٹریال معاہدے پر عمل درآمد میں مدد کے سلسلے میں ایک لائحہ عمل طے کیا گیا ہے۔

1989ء کے معاہدے میں کلوروفلوروکاربن اور ہائیڈرو کلوروفلوروکاربن کے استعمال کو مرحلہ وار ختم کرنے کے لیے کہا گیا ہے، جن کے بارے میں سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ مادے اوزون کی تہہ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ اوزون کی تہہ سورج سے آنے والی نقصان دہ بالائے بنفشی (الٹرا وائلٹ) شعاعوں کا راستہ روکتی ہے۔

سائنس دانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ کیمیائی مادے گرین ہاؤس گیسوں کی طرح عمل کرتے ہیں، جن کا آب و ہوا کی تبدیلی میں اہم کردار ہے۔

اقوام متحدہ کے ماحولیات سے متعلق ادارے کے علاقائی ڈائریکٹر یونگ وو پارک کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے جنوبی ایشیا میں ممنوعہ کیمیائی مادوں کی غیر قانونی تجارت کم کرنے میں مدد ملے گی۔

وہ کہتے ہیں کہ ساری دنیا جانتی ہے کہ افغانستان کے اندر جنگ جاری ہے، لیکن مشکل حالات میں بھی انہوں نے ماحول کے مسئلے کو اہمیت دی ہے اور اوزون کی تہہ کو پہنچنے والے نقصان اور ممنوع کیمیائی مادوں کی غیر قانونی تجارت جیسے ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے کے لیے اس معاہدے پر کسی دباؤ کے بغیر دستخط کیے ہیں۔

پارک کہتے ہیں کہ اب جب کہ یہ کیمیائی مادے بہت ارزاں ہیں اور ان کی افغانستان سے باہر ترسیل آسان ہے، اس تجارت کی روک تھام ایک دشوار کام ہے۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ افغان حکومت نے ملک میں جنگ کے باوجود اپنی سرحدوں کے اندر اس تجارت کو روکنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔

یو این ای پی کا اندازہ ہے کہ جرائم کے بین الاقوامی گروہ ماحول کو نقصان پہنچانے والی چیزوں مثلاً اوزون کی تہہ کو متاثر کرنے والے مادوں، نشہ آور کیمیائی اشیا، ضررساں فضلے اور نایاب جانوروں کی غیر قانونی تجارت سے سالانہ 30 ارب ڈالر تک کماتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG