رسائی کے لنکس

شمالی افغانستان میں اتوار کو ہونے والے ایک بم دھماکے میں کم از کم نو افراد ہلاک ہوگئے اور اس حملے کا نشانہ بننے والے تمام افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے بتایا گیا ہے۔ مرنے والوں میں چھ خواتین، دو مرد اور ایک بچہ شامل ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ بغلان صوبے کے دارالحکومت پلِ خُمری میں اُس وقت پیش آیا جب شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے جانے والی ایک ویگن نما کار سڑک میں چھپائے گئے ایک بم سے ٹکرا گئی۔

ایک روز قبل جنوبی صوبے ہلمند کے سنگین ضلع میں بھی سڑک میں نصب بم سے ایک گاڑی ٹکرانے سے کم از کم چھ عام شہری ہلاک ہوگئے تھے۔ جبکہ مشرقی صوبے کنڑ میں دو مشتبہ گھروں پر بین الاقوامی افواج کے طیاروں کی بمباری میں تین بچوں سمیت چھ شہری مارے گئے تھے۔

تاہم اتحادی افواج کے ایک ترجمان کے مطابق فضائی بمباری میں مرنے والے افراد یقینی طور پر شدت پسند تھے جبکہ جس علاقے میں شہری ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں وہاں کسی فوجی کارروائی کی اطلاع اُن کے پاس نہیں ہے۔

اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق گذشتہ سال افغانستان میں شہری ہلاکتوں میں بیس فیصد اضافہ ہوا تھا۔ اطلاعات کے مطابق 2010ء میں غیر ملکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی تعداد 711 رہی جن میں اکثریت امریکیوں کی تھی اور تقریباََ سال سے جاری لڑائی میں گذشتہ سال اتحادی افواج کے لیے ہلاکت خیز ثابت ہوا۔


XS
SM
MD
LG