رسائی کے لنکس

افغانستان: امن و امان کے بعد رشوت دوسرا بڑا مسئلہ


اقوامِ متحدہ کے مطابق افغانستان میں صرف سنہ 2012ء کے دوران میں لگ بھگ چار ارب ڈالرز رشوت دی گئی۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق افغانستان میں رشوت ستانی اور بدعنوانی عروج پر پہنچ گئی ہے اور صرف سنہ 2012ء کے دوران میں ملک میں لگ بھگ چار ارب ڈالرز رشوت دی گئی۔

یہ رقم جنگ زدہ افغانستان کی تعمیرِ نو کے لیے بین الاقوامی برادری کی جانب سے اعلان کردہ کل امدادی رقم کا تقریباً ایک چوتھائی بنتی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ایک تازہ سروے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گزشتہ برس افغانستان کے کل بالغ افراد میں سے تقریباً نصف نے کسی نہ کسی سرکاری عہدیدار کو رشوت دی۔

سروے کے مطابق گوکہ رشوت دینے والے افغانیوں کی تعداد میں ایک برس قبل کے مقابلے میں نو فی صد کمی آئی ہے لیکن رشوت کی مد میں دی جانے والی رقم میں 2011ء کے مقابلے میں 40 فی صد اضافہ ہوا۔

اقوامِ متحدہ کے افغانستان میں دفتر برائے منشیات و جرائم کے سربراہ جین لک لیماہیو کے مطابق صرف 2012ء میں افغان شہریوں نے حکام کو جتنی رقم رشوت میں دی وہ افغان حکومت کی جانب سے 2010ء اور 2011ء کے دو برسوں کے دوران میں جمع کی جانے والی ٹیکس کی کل رقم سے بھی دگنی ہے۔

ان کے بقول سروے میں افغان سیاست دانوں کی جانب سے کی جانے والی اعلیٰ سطحی کرپشن اور انہیں دی جانے والی رشوتوں کو سرے سے شامل ہی نہیں کیا گیا ورنہ رقم کے اس تخمینے میں مزید اضافہ ہوسکتا تھا۔

لیماہیو کا کہنا ہے کہ افغانستان میں دلچسپی رکھنےو الا یا یہاں کا کوئی بھی رہائشی اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتا کہ افغان حکومت اور اس کی کارکردگی کو لاحق بیماریوں میں سرِ فہرست بد عنوانی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق افغانستان میں کرپشن کی مروج صورتوں میں رشوت ستانی، دھوکے بازی، اختیارات کا ناجائر استعمال اور اقربا پروری سرِ فہرست ہیں جن کا دائرہ حکومت کے اعلیٰ ترین عہدیداران سے لے کر عوام کو خدمات فراہم کرنے والے نچلے درجے کے سرکاری ملازمین تک پھیلا ہوا ہے۔

سروے کے مطابق جن شعبوں میں کرپشن اور رشوت ستانی میں اضافہ ہوا ہے ان میں تعلیم سرِ فہرست ہے۔

سروے میں رائے دینے والے نصف سے زائد افرادنے بتایا کہ انہوں نے 2012ء کے دوران میں کسی نہ کسی استاد کو رشوت دی۔

عالمی ادارے کے سروے میں کہا گیا ہے کہ رشوت دینے اور لینے کا چلن افغان معاشرے میں عام ہے اور اب اسے افغانستان میں ایک قابلِ قبول رویہ سمجھا جانے لگا ہے۔

سروے کے مطابق افغان شہری امن و امان کی خراب صورتِ حال کے بعد بدعنوانی کو اپنے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ سمجھتے ہیں۔
XS
SM
MD
LG