رسائی کے لنکس

مرجاہ: سست پیش رفت پر برطانوی کمانڈر کا انتباہ


مرجاہ فوجی کارروائی

مرجاہ فوجی کارروائی

فروری میں جب فوجوں نے پہلی بار طالبان کو علاقے سے دکھیل باہر کیا تھا اب تک مرجا ہ کے نصف کے قریب اسکول دوبارہ کھل چکے ہیں اور متعدد لوگوں نے روزگار حاصل کرلیا ہے

جنوبی افغانستان میں برطانوی فوج کے ایک اعلیٰ کمانڈر نےخبردار کیا ہےکہ ایک کلیدی علاقے کوطالبان کےقبضے سے خالی کرانے میں مزید تین تا چار ماہ لگ سکتے ہیں۔

میجر جنرل نِک کارٹر نے بدھ کے روز کہا کہ اگرچہ امریکی قیادت میں زراعت سے وابستہ ایک بستی پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے سے علاقہ محفوظ بن چکا ہے، لیکن صوبہٴ ہلمند کے علاقے‘مرجاہ’ کے باشندے ابھی تک طالبان کے خوف سے باہر نہیں نکل پائے۔

فروری میں جب فوجوں نے پہلی بار طالبان کو علاقے سے دکھیل باہر کیا تھا اب تک مرجاہ کے نصف کے قریب اسکول دوبارہ کھل چکے ہیں اور متعدد لوگوں نے روزگار حاصل کرلیا ہے۔ لیکن برطانوی کمانڈر کے بقول، خوف کے باعث، علاقے کے باشندےحکومت تشکیل دینے سے کتراتے ہیں۔

مرجاہ پر دوبارہ قبضہ حاصل کرنے کے لیے کیا جانے والا‘ آپریشن مشترک،’ سال 2001ء میں طالبان حکومت کو شکست دیے جانے کے بعد سے اب تک افغانستان میں امریکی قیادت میں کی جانے والی سب سے بڑی کارروائی تھی۔ عہدے داروں کا کہنا ہے کہ اِس کا مقصد بغاوت کے گڑھ کو کچلنا تھا۔

افغانستان میں اعلیٰ امریکی کمانڈر مرجاہ آپریشن کے بارے میں لوگوں کے خدشات پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

سست پیش رفت کے باعث، بری فوج کے جنرل اسٹینلی میک کرسٹل نے صورتِ حال کو رِستے ہوئے ناسور کے مترادف قرار دیا ہے۔

جنوبی شہرقندہار میں امریکی فوجی قیادت میں طالبان باغیوں کے خلاف دوسری کارروائی کی تیاریاں ہورہی ہیں۔ اِسی دوران، شدت پسندوں نےحملوں کا ایک سلسلہ جاری کر رکھا ہے۔

افغان عہدے داروں نے بدھ کو قندہار میں نیٹو بیس کے باہرہونے والے طاقت ور دھماکے کا باعث خود کش کار حملے کو قرار دیا ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے میں کوئی شخص ہلاک نہیں ہوا، لیکن دھماکے میں بیس کی پارکنگ کے علاقے میں کھڑی 11کاریں اور 50موٹر سائکلیں تباہ ہوگئیں۔

XS
SM
MD
LG