رسائی کے لنکس

جنرل نکولسن نے افغانستان میں بین الاقوامی افواج کی کمان سنبھال لی


جنرل نکولسن (فائل فوٹو)

جنرل نکولسن (فائل فوٹو)

بین الاقوامی افواج کی کمان کی تبدیلی ایک ایسے وقت ہوئی ہے جب افغانستان میں طالبان کی طرف سے نستباً پرامن سمجھے جانے والے علاقوں تک پیش قدمی اور پرتشدد کارروائیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

افغانستان میں بدھ کو بین الاقوامی افواج کے سربراہ جنرل جان کیمبل سبکدوش ہوئے اور ان کی جگہ یہ ذمہ داری امریکی جنرل جان نکولسن نے سنبھال لی۔

افغانستان میں امریکہ کی زیر قیادت اتحادی ممالک کا لڑاکا مشن تو 2014ء میں ختم ہو گیا تھا لیکن لگ بھگ 13000 ہزار بین الاقوامی فوجی یہاں اب بھی تعینات ہیں جن میں اکثریت امریکیوں کی ہے۔ یہ افواج مقامی سکیورٹی فورسز کو تربیت اور انسداد دہشت گردی میں معاونت فراہم کرنے کے لیے ایک سکیورٹی معاہدے کے تحت یہاں تعینات ہیں۔

کمان کی تبدیلی کی تقریب کابل میں "ریزولیوٹ اسپورٹ مشن" کے ہیڈکوارٹر میں منعقد ہوئی جہاں جنرل نکولسن نے امریکہ کا ساتھ دینے پر نیٹو کے نمائندوں کا شکریہ ادا کیا۔

انھوں نے "دشمنوں" کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "میں جانتا ہوں۔ تم نے افغان عوام کو صرف سختیاں اور تکالیف ہی دی ہیں۔"

جنرل نکولسن اس سے قبل 2006ء سے 2012ء کے درمیان تین مرتبہ پہلے بھی افغانستان میں خدمات انجام دے چکے ہیں جب کہ اس تازہ ذمہ داری سے قبل وہ ترکی میں نیٹو اتحادی افواج کے کمانڈر رہ چکے ہیں۔

بین الاقوامی افواج کی کمان کی تبدیلی ایک ایسے وقت ہوئی ہے جب افغانستان میں طالبان کی طرف سے نستباً پرامن سمجھے جانے والے علاقوں تک پیش قدمی اور پرتشدد کارروائیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

علاوہ ازیں ملک کے مشرقی علاقوں میں شدت پسند گروپ داعش نے بھی اپنے قدم جمائے ہیں اور وہ اپنا دائرہ اثر بڑھانے کے لیے طالبان کے ساتھ مسلح جھڑپیں کرتا آرہا ہے۔

اس خراب صورتحال کے ساتھ ساتھ افغانستان میں مصالحتی کوششوں کی بحالی کے بھی امریکہ، چین، پاکستان اور افغانستان اپنی بھرپور کاوشیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG