رسائی کے لنکس

افغانستان: شہری ہلاکتیں امریکی مشن کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ


جنرل اسٹینلی مک کرسٹل

جنرل اسٹینلی مک کرسٹل

مشرقی وسطی اور وسطی ایشیا کے لیے امریکی افواج کے کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹریس نے کہا ہے کہ، افغانستان میں اتحادیوں کے ہاتھوں عام شہریوں کی ہلاکتوں سے امریکہ اور نیٹو کا مشن متاثر ہو رہا ہے۔گذشتہ پیر کے روز ایک بس پر امریکی فوجیوں کی فائرنگ کے نتیجے میں چار شہری ہلاک ہوگئے تھے ، جس سے وہاں امریکہ کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے۔

احتجاج میں شریک ایک افغان عبدالخالق کا کہنا ہے کہ ہم امریکیوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ انہوں نے ہمارے لوگوں کو ہلاک کیا ہے اور ہماری گاڑیوں کو تباہ کیا ہے۔ انہوں نے میرے بھائی کی بھی جان لے لی۔ وہ ہمارے ساتھ ایسا کیوں کررہے ہیں۔

اس فائرنگ میں زخمی ہونے والے ایک افغان عبدالجبار کا کہنا تھا کہ جب ہم امریکی فوج کے قافلے کے قریب پہنچے تو اچانک انہوں نے ہم پر فائرنگ شروع کردی۔ ہم لوگ سو رہے تھے۔ اسکے بعد پھر کیا ہوا مجھے نہیں معلوم۔۔

یہ سانحہ پچھلے دنوں ہونے والے کئی واقعات میں سے ایک ہے ،جن میں امریکی افواج نے عام افغان شہریوں کو دشمن سمجھتے ہوئے ہدف بنایا۔۔پچھلے ہفتہ جنرل ڈیوڈ پٹریس نے کہا تھا کہ شہری ہلاکتوں سے افغانستان میں امریکی مشن کو نقصان پہنچ رہاہے۔

ان کا کہناتھا کہ اگر ہمارے آپریشنز میں اسی طرح بے گناہ شہریوں کی جانیں جاتی رہیں تو ہم اپنے اہداف اور مقاصد حاصل نہیں کرسکتے ۔

افغانستان میں امریکہ اور نیٹو کےاعلیٰ کمانڈر، جنرل اسٹینلی مک کرسٹل نے جنگ میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کو کم کرنا اپنی اولین ترجیح قرار دیا ہے۔ ا ن واقعات میں پچھلے سال کےمقابلے میں کچھ کمی واقع ہوئی ہے لیکن عسکریت پسندوں سے نمٹنا نہ تو آسان ہے اور نہ ہی یہ کوئی واضح لڑائی ہے۔

کونسل آن فارن ریلیشنز کے تجزیہ کار اسٹیون بڈل کہتے ہیں کہ ایک روایتی جنگ میں اپنی ذات کو خطرے میں ڈالنا ہوتا ہے۔اگر آپ کا مشن ایک پہاڑی پر قبضہ کرنا ہو تو اس قبضے کے بعد مشن مکمل ہوجاتا ہے ۔ اسکے برعکس مزاحمت کاروں کے خلاف جنگ میں مشن کی کامیابی کا تعین کرنا تقریبا ناممکن ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اگر آپ نے ایک گاؤں کو مزاحمت کاروں سے خالی کرالیا اور وہاں گشت بھی شروع کردی۔لیکن گاؤں والے کیا سوچتے ہیں؟ کیا وہ واقعی حکومت کے ساتھ ہیں یا نہیں؟ آخر آپ یہ کیسے کہ سکتے ہیں۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ عام شہریوں کی ہلاکتوں کو کم سے کم کرنا انتہائی ضروری ہے۔ خصوصا ً ایسے میں جبکہ امریکی قندھار شہر کا،جو کہ طالبان کا روحانی مرکز ہے، کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں۔بڈل کا کہنا ہے کہ ان مظاہروں کے باوجود افغانوں کی اکثریت کرزئی حکومت اور اتحاد ی افواج کی کامیابی چاہتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ہمیں افغانستان میں سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہاں طالبان غیر مقبول ہیں اور انکے پاس دینے کو کچھ بھی نہیں۔افغان عوام طالبان کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں اور وہ یہ کہتے ہیں کہ انہیں طالبان کا دور نہیں چاہیے۔

XS
SM
MD
LG