رسائی کے لنکس

'امریکی ہیلی کاپٹر گرنے کی حتمی وجہ کا علم نہیں'


'امریکی ہیلی کاپٹر گرنے کی حتمی وجہ کا علم نہیں'

'امریکی ہیلی کاپٹر گرنے کی حتمی وجہ کا علم نہیں'

کچھ اطلاعات کے مطابق یہ ہیلی کاپٹر لڑائی میں مشغول، ایک فوجی یونٹ کی امداد کیلئےجارہا تھا افغان اور امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ہیلی کاپٹر کے گر کر تباہ ہونے کے متعلق کوئی بات حتمی طور پر کہنا قبل از وقت ہو گا۔

افغانستان میں امریکی ہیلی کاپٹرگر کر تباہ ہونے سے اڑتیس افراد ہلاک ہوئے جن میں سے کچھ امریکی فوج کے سب سے اعلی تربیت یافتہ کمانڈو تھےجنہیں نیوی سیل کہا جاتا ہے ۔ اسکے علاوہ مرنےوالوں میں افغانی اہلکاربھی شامل تھے۔

ہمارے نمائندے فل اٹنرکی وائس آ ف امریکہ کے نیوز روم سے ایک بات چیت کے مطابق چنوک امریکی فوج کے پاس سب سے بڑا ہیلی کاپٹر ہے۔ امریکی فوج کو علم ہے کہ ٹھیک کس جگہ ہیلی کاپٹر کو حادثہ پیش آیا، تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ حادثے کی حتمی وجہ کیا تھی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جس جگہ یہ حادثہ پیش آیا وہاں پر باغیوں کی سرگرمیاں جاری ہیں۔ اور یہ حادثہ انکی کاروائیوں کیا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے۔

طالبان نے اس حادثے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ لیکن انکی بات کو اس لئے تسلیم نہیں کیا جارہا کہ ماضی میں اُنہوں نے ایسے کئی حادثات کی ذمہ داری قبول کی ہے جن سے ان کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ طالبان کا یہ بھی دعوی ہے کہ انہوں نے اس ہیلی کاپٹر میں سوار کمانڈوز کو نشانہ بنا کر انتقام لیا ہے۔ لیکن اس بات کو اس لئے تسلیم نہیں کیا جارہا کہ اگر ایسا ہے تو پھر اس کا مطلب ہے کہ طالبان کو اس بات کا علم تھا کہ کون سے فوجی کس کاروائی میں حصہ لے رہے ہیں۔ وہ ایسا پروپیگینڈے کے طور پر کہتےہیں۔

فل اٹنر کا کہنا ہے کہ کچھ اطلاعات کے مطابق یہ ہیلی کاپٹر لڑائی میں مشغول، ایک فوجی یونٹ کی امداد کیلئےجارہا تھا۔ افغان اور امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ہیلی کاپٹر کے گر کر تباہ ہونے کے متعلق کوئی بات حتمی طور پر کہنا قبل از وقت ہو گا۔

امریکی حکام اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ اِس فوجی ہیلی کاپٹر میں زیادہ تعداد نیوی سیل کہلانے والے اعلی تربیت یافتہ کمانڈوز کی تھی۔ فل اٹنر کا کہنا ہے کہ لیکن ان میں سے کوئی بھی اُس ٹیم کا حصہ نہیں تھا جس نے پاکستان میں اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کی کاوائی میں حصہ لیا تھا ۔ تاہم یہ بات درست ہے کہ اس ہیلی کاپٹر میں امریکی فوج کے سب سے زیادہ تربیت یافتہ جوان سوار تھے۔ اور اتنی بڑی تعداد میں ایسے اعلی تربیت یافتہ فوجیوں کا ہلاک ہونا امریکی فوج کے لئے یقیناً بہت بڑا نقصان ہے۔

اس حادثے پر افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے صدر باراک اوباما سے اظہارِ تعزیت کیا ہے۔ فل اٹنر کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صدر کرزئی دہری چال چل رہے ہیں۔ کبھی کبھار تو وہ امریکی فوج کی افغانستان میں موجودگی اور انکی کاروائیوں کے خلاف سخت بیان جاری کرتے ہیں۔ مگر ایسے حادثات کے موقعوں پر وہ نکتہ چینی سے ہٹ کر تعزیت کا اظہار کرتے ہیں اور امریکی فوجیوں کے لئے احترام کا اظہار کرتے ہیں۔

جائے حادثہ ، یعنی صوبہ وردک دارالحکومت کابل کے ہمسائے میں واقع ہے، جو طالبان عسکریت پسندوں کی کاروائیوں کا گڑھ ہے۔ اطلاعات کے مطابق جس جگہ حادثہ پیش آیا اس جگہ کو امریکی فوجیوں کی تفتیشی ٹیم نے محاصرے میں لیا ہوا ہے۔ اور وہاں لڑائی جاری ہے۔ طالبان عسکریت پسندوں جانتے ہیں کہ امریکی فوجی جائے حادثہ سے ہیلی کاپٹر کا ملبہ اٹھانے آئیں ہیں تا کہ اندازہ ہیلی کاپٹر کوپیش آنے والے حادثے کی وجہ جان سکیں ۔ اس وقت اس علاقے سے لڑائی میں تیزی کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔

XS
SM
MD
LG