رسائی کے لنکس

افغانستان:2010ء میں نو ہزار سے زائد افراد ہلاک

  • یاسر منصوری

افغانستان:2010ء میں نو ہزار سے زائد افراد ہلاک

افغانستان:2010ء میں نو ہزار سے زائد افراد ہلاک

2010ء کے دوران افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کے بعد جنگ سے تباہ حال اس ملک میں تعینات غیر ملکی افواج کی تعداد لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ تک پہنچ گئی۔ سال کے دوران تشدد کی لہر ملک کے شورش زدہ مشرقی اور جنوبی علاقوں سے نکل کر نسبتاً پر سکون شمالی اور مغربی حصوں تک پھیل گئی اور طالبان جنگجوؤں کی عسکری مزاحمت بھی اپنے عروج پر رہی۔

افغانستان میں 2010ء کے دوران پرتشدد کارروائیوں میں شدت پسندوں سمیت نو ہزار تین سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

وزارت داخلہ کے ترجمان زمئرے بشری نے کہا ہے کہ گذشتہ سال تشدد کے 6,716 واقعات پیش آئے جن میں جھڑپیں اور گھات لگا کر کیے گئے حملے، خودکش اور سڑک میں نصب بموں کے دھماکے، اور راکٹ حملے شامل تھے۔

ترجمان کے مطابق ان حملوں میں افغان پولیس کے 1,292 اہلکار ہلاک ہوئے تاہم یہ تعداد 2009ء کی نسبت تقریباً سات فیصد کم تھی۔ اُنھوں نے بتایا کہ سال بھر کے دوران کی گئی کارروائیوں میں 5,225 جنگجو ہلاک اور 949 زخمی بھی ہوئے۔

افغان وزارت دفاع نے کہا ہے کہ گذشتہ سال ملک کے مختلف حصوں میں 821 افغان فوجی ہلاک ہوئے تاہم سرکاری سطح پر 2009ء کے اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔

بشری کا کہنا تھا کہ اس عرصے کے دوران پر تشدد کاررائیوں کی زد میں آ کر 2,043 عام شہری ہلاک اور 3,570 زخمی بھی ہوئے۔
تاہم اقوام متحدہ کے مطابق گذشتہ سال جنوری سے اکتوبر تک افغانستان میں 2,412 شہری ہلاک ہوئے اور یہ تعداد 2009ء کے مقابلے میں 20فیصد زیادہ تھی۔

2010ء کے دوران افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کے بعد جنگ سے تباہ حال اس ملک میں تعینات غیر ملکی افواج کی تعداد لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ تک پہنچ گئی۔ سال کے دوران تشدد کی لہر ملک کے شورش زدہ مشرقی اور جنوبی علاقوں سے نکل کر نسبتاً پر سکون شمالی اور مغربی حصوں تک پھیل گئی اور طالبان جنگجوؤں کی عسکری مزاحمت بھی اپنے عروج پر رہی۔

افغانستان میں تعینات بین الاقوامی افواج کے ترجمان کا کہا ہے کہ ہلاکتوں میں اضافہ افغان سکیورٹی فورسز کی جانب سے ملکی سلامتی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو ظاہر کرتا ہے۔

افغانستان:2010ء میں نو ہزار سے زائد افراد ہلاک

افغانستان:2010ء میں نو ہزار سے زائد افراد ہلاک

برگیڈیئر جنرل جوزف بلاٹز نے اعتراف کیا ہے کہ ملک میں تعینات غیر ملکی افواج کی تعداد میں اضافہ لڑائی میں تیزی کا سبب بنا ہے لیکن اُن کے مطابق یہ طالبان اور القاعدہ کے خلاف جنگ کی مجموعی حکمت عملی کا اہم جز ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ بہتری سے قبل حالات کا مزید بگڑنا متوقع تھا اور گذشتہ سال یہی ہوا۔

2010ء بین الاقوامی افواج کے لیے مہلک ترین ثابت ہوا ہے اور افغانستان میں غیر ملکی فوجیوں کی ہلاکتوں سے متعلق اعدادوشمار اکھٹے کرنے والی ایک ویب سائٹ کے مطابق سال بھر میں کل 711 غیر ملکی فوجی ہلاک ہوئے اور ان میں اکثریت امریکیوں کی تھی۔

گذشتہ ماہ امریکی صدر براک واباما نے افغان جنگی حکمت عملی کا سالانہ جائزہ پیش کیا تھا جس کے مطابق امریکی اور نیٹو افواج نے طالبان اور القاعدہ کے خلاف کامیابیاں حاصل کی ہیں لیکن تاحال اُنھیں کڑے چیلنجوں کا سامنا ہے۔

نیٹو کے ممبر ملکوں نے نومبر 2010ء میں لزبن میں ہونے والے سربراہ اجلاس میں فیصلہ کیا ہے کہ 2014ء کے اختتام تک بین الاقوامی افواج افغانستان میں فوجی آپریشن ختم کرکے سکیورٹی کی مکمل ذمہ داریاں افغان حکام کو منتقل کر دے گی۔ صدر اوباما نے بھی جولائی کے مہینے سے افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا کا عمل شروع کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ 2014ء سے مشروط اہداف کا حصول انتہائی مشکل ہے اور ایسے اعلانات شدت پسندوں کے حوصلے بلند کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG