رسائی کے لنکس

افغانستان میں عام شہریوں کی ہلاکت کے خلاف مظاہرے

  • آمنہ خان

افغانستان میں عام شہریوں کی ہلاکت کے خلاف مظاہرے

افغانستان میں عام شہریوں کی ہلاکت کے خلاف مظاہرے


گذر جانے والا سال پاکستان کے لیے ایک مشکل سال رہا، خاص طورپر دہشت گردی کے حوالے سے، اور دسمبر کے آخری ہفتے میں کراچی میں عاشورہ کے جلوس میں دہشت گردی کی ایک بڑی کارروائی سے نہ صرف درجنوں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں بلکہ بعد میں ہونے والی توڑ پھوڑ میں بڑے پیمانے پر املاک کو نقصان بھی پہنچا۔ دوسری جانب افغانستان میں جہاں طالبان ، افغان اور غیر ملکی سیکیورٹی فورسز پر حملے کررہے ہیں، نیٹو اور امریکی فوج کی ایک کارروائی کے خلاف، جس میں کئی عام شہری ہلاک ہوگئے تھے، بڑے پیمانے پر احتجاج ہورہاہے۔

افغان طالبان کے ایک ترجمان کے مطابق بدھ کے روز خوست میں امریکی اڈے پرخود کش حملے کا ذمہ دار ایک افغان فوجی تھا، گو اس خبر کی اب تک تصدیق نہیں ہو سکی مگراس حملے میں امریکی سی آئی اے نے اپنے سات ملازمین کی ہلاکت اور چھ کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے ۔گزشتہ کچھ ہفتوں ٕمیں سی آئی اے نے پاک افغان سرحد پر طالبان اور القاعدہ کی پناہ گاہوں پر ڈرون حملوں میں اضافہ کیا تھا ۔ خوست میں حملے کے بعد جمعرات کے روز شہر میں جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں ۔

ایک ٹیکسی ڈرائیور نے مختلف چیک پوائنٹس پر تلاشی کے بارے میں شکایت کی، لیکن پولیس کے ایک اہلکار گلاب شاہ کا کہنا ہے کہ تلاشی کرانا لازمی ہے۔

گلاب شاہ کا کہنا ہے کہ آج کل سیکیورٹی کی صورت حال کا خراب سے خراب تر ہوناہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہوں گے، ایک خود کش حملہ آور نے اپنے آپ کو ایئرپورٹ کے پاس بم سے اڑا دیاہے ۔

افغانستان کے جنوبی صوبے کے شہر قندہار میں گشت کے دوران کینیڈا کے چار فوجی اور ایک صحافی بم کی زد میں آ کر ہلاک ہو گئے۔ یہ حملہ شہر کے ایک پر امن حصے میں پیش آیا ۔

بریگیڈیئر جنرل ڈینیئل مینارڈ کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے فوجی یہاں کے لوگوں کے تحفظ کی خاطر گشت کر رہے تھے اور ان کے رہن سہن کے متعلق معلومات اکھٹی کرنےکی کوشش کر رہے تھے۔

ہلاک ہونے والی خاتون صحافی مائیکل لانگ کا تعلق کیل گیرے ہرالڈ نامی ایک اخبار سے تھا۔ وہ ایک فوجی گاڑی پر سوارتھیں۔

اسی عرصے میں اتوار کے روز کنڑ صوبے میں افغان اور نیٹو افواج کی ایک مشترکہ کارروائی کے خلاف کابل میں کئی سو افغانیوں نے ایک مظاہرہ کیا۔ افغان حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں 10بے گناہ شہری جاں بحق ہوئےتھے۔

مظاہرے میں شریک ایک شخص خالد رشید کا کہنا تھا کہ ہم یہاں اظہار تعزیت کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم افغانستان میں غیر ملکیوں کی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں مظلوم شہریوں کی ہلاکتوں کے خلاف آواز بھی اٹھانا چاہتے ہیں۔

اس واقعے پر تحقیقات جاری ہیں۔ امریکی اور نیٹو افواج کے کمانڈرسٹنلے مک کرسٹل نے شہریوں کی حفاظت کو غیر ملکی فوجیوں کی ترجیحات میں شامل کیا ہے۔ انہوں نے گولہ بارود کے استعمال پر کچھ ایسی پابندیاں عائد کی ہیں، جن کی مدد سے فوجی کارروائیوں کے دوران شہریوں کی اموات میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔

XS
SM
MD
LG