رسائی کے لنکس

افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلا کے مضمرات پر بحث جاری

  • گیری تھامس

افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلا کے مضمرات پر بحث جاری

افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلا کے مضمرات پر بحث جاری

صدر اوباما کا ارادہ ہے کہ ستمبر 2012 تک افغانستان سے 33,000 امریکی فوجوں کی واپسی مکمل کر لی جائے۔ لیکن صدر کے منصوبے کے مطابق، 68,000 امریکی فوجی ، یعنی صدر اوباما کے عہدہ سنبھالنے کے وقت جتنے امریکی فوجی تھے، ان سے دگنے، 2014 تک افغانستان میں رہیں گے ۔ امریکی فوجوں کی کمی کے منصوبوں سے امریکہ میں ایک بار پھر افغانستان اور پاکستان کے بارے میں امریکی حکمت عملی پر بحث شروع ہو گئی ہے ۔

33,000 امریکی فوجی جو تیزی سے افغانستان بھیجے گئے تھے، صدر اوباما کی جانب سے ان کی واپسی کے منصوبے کے اعلان کے بعد، سینیٹ کی جنوبی ایشیا کے امور کی خارجہ تعلقات کی ذیلی کمیٹی کے چیئر مین ، سینیٹر باب کیسی نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کو اپنی اسٹریٹجی تبدیل کرنی چاہیئے۔ اب امریکہ کی توجہ انسدادِ بغاوت کے بجائے انسدادِ دہشت گردی پر ہونی چاہیئے۔

انسدادِ بغاوت بمقابلہ انسداد دہشت گردی کی بحث اس وقت اوباما کے پالیسی ساز حلقوں میں زور شور سے جاری رہی جب 2009 میں افغانستان کے بارے میں حکمت عملی ترتیب دی جا رہی تھی۔ بعض مشیر، خاص طور سے فوج کے لوگ بغاوت کو ختم کرنے کی حکمت عملی کے حق میں تھے جس میں فوجی طاقت کے استعمال پر زور دیا گیا تھا اور اس کے ساتھ ہی لوگوں کے دل جیتنے اور تعمیر ِ نو پر توجہ دی جانی تھی۔ دوسرے لوگ، جن کی قیادت نائب صدر جو بائڈن کر رہے تھے، اس خیال کے حامی تھے کہ انسداد دہشت گردی کے پروگرام کو محدود رکھا جانا چاہیئے اور اس میں اسپیشل آپریشنز فورسز کی تھوڑی سی تعداد کو صرف القاعدہ اور اس کے اتحادیوں پر حملوں کے لیے استعمال کرنا چاہیئے، اور تعمیرِ نو کے پروگراموں کو کم اہمیت دی جانی چاہیئے۔ مسٹر اوباما نے بالآخر انسدادِ بغاوت کے نقطہ نظر کو قبول کیا اور مزید فوجی بھیجنے کا حکم دیا۔

مائیکل او ہنلون بروکنگس انسٹی ٹیوشن میں سینیئر فیلو ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’’ میرے خیال میں تمام تر توجہ انسداد دہشت گردی کے خلاف مرکوز کرنے سے کام نہیں بنے گا۔ کیا آپ روایتی اور اسپیشل فورسز کے تناسب میں رد و بدل کر سکتے ہیں؟ کیا آپ یہ کر سکتے ہیں کہ مستقبل میں جیسے جیسے افغان فورسز انسانی انٹیلی جنس اور آبادی کو تحفظ فراہم کرنے لگیں، آپ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں تیز کر دیں؟ ہاں، یہ ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ سب انتہائی ہوشیاری سے بنائے ہوئے منصوبے کا حصہ ہونا چاہیئے اور یہ بات اہم ہے کہ آپ یہ کام کس رفتار سے کرتے ہیں۔ صدر نے دراصل یہ کیا ہے کہ اس امید پر کہ فوجوں میں اتنی تیزی سے کمی ہونے پر، کمانڈر ایک نیا منصوبہ بنا لیں گے، موجودہ منصوبے کو ختم کر دیا ہے ۔ میری تمنا ہے کہ صدر اور دوسر ے تمام لوگ کامیاب ہو جائیں، لیکن اس کام میں کافی خطرات ہیں۔‘‘

کونسل آن فارن ریلیشنز کے اسٹیفن بڈل کہتے ہیں کہ امریکہ کے لیے بنیادی خطرہ یہ ہے کہ اگر فوجیں بہت زیادہ عجلت میں نکالی گئیں، تو افغان حکومت ختم ہو سکتی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو افغانستان اور پاکستان کی سرحد پر عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے، اور پاکستان کے نیوکلیئر ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھ لگنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے ۔

اسٹیفن بڈل

اسٹیفن بڈل

’’مسئلہ یہ ہے کہ اگر افغانستان میں 1990 کی دہائی جیسی انارکی پھیلی تو اس کے نتائج سے ہمیں نقصان پہنچ سکتا ہے ۔ یا تو القاعدہ دوبارہ افغانستان میں اپنے اڈے قائم کر سکتی ہے، جو کہ میرے خیال میں نسبتا کم بڑا خطرہ ہے، یا اس لیے کہ پاکستان کی مغربی سرحد پر افراتفری کا نتیجہ پاکستان کے عدم استحکام کی صورت میں نکل سکتا ہے۔‘‘

سرکاری عہدے دار کہتے ہیں کہ بقیہ 68,000 فوجی، بین الاقوامی اتحاد کے دوسرے ارکان کے ساتھ ، طالبان کے اوپر فوجی دباؤ جاری رکھیں گے اور اس کے ساتھ ساتھ افغان فوج اور پولیس کو تربیت دیتے رہیں گے تا کہ وہ 2014 تک سکیورٹی کے فرائض انجام دینے لگیں۔
فوجی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ، سیاسی تصفیے کی کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔ صدر اوباما نے کہاہے کہ امریکہ امن کی تمام کوششوں کی تائید کرے گا لیکن شرط یہ ہے کہ یہ افغانستان حکومت کی قیادت میں کی جانی چاہئیں۔

’’افغان حکومت کی سیکورٹی فورسز کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ، امریکہ ایسے اقدامات میں شریک ہو جائے گا جن کا مقصد طالبان سمیت، افغان عوام کے ساتھ مصالحت ہے ۔ان مذاکرات کے بارے میں ہمارا موقف بالکل واضح ہے ۔ان کی قیادت افغان حکومت کو کرنی چاہیئے، اور جو لوگ ؛پُر امن افغانستان کا حصہ بننا چاہتے ہیں، انہیں القاعدہ سے تعلق ختم کرنا ہو گا، تشدد کو خیر باد کہنا ہوگا، اور افغان آئین کا پابند ہونا ہو گا۔‘‘

لیکن امریکہ میں افغانستان کے سابق سفیر سید جواد کہتے ہیں کہ طالبان امن کے مذاکرات میں اس وقت تک حصہ نہیں لیں گے جب تک امریکہ ان میں شریک نہ ہو۔ وہ کہتے ہیں’’میرا تجربہ یہ ہے کہ جب کبھی طالبان سے بات چیت کے لیئے کوئی ایلچی بھیجا جاتا ہے، یا طالبان اپنے لوگوں کو افغان حکومت سے بات چیتےکے لیئے بھیجتے ہیں تو پہلا سوال وہ یہی کرتے ہیں کہ کیا اس مصالحت کے بارے میں امریکیوں کو علم ہے؟ اگر جواب نفی میں ہو تو طالبان کو کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ وجہ یہ ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ وہ کس سے لڑ رہے ہیں۔ لہٰذا اگر مصالحت ہونی ہے، تو وہ اس فریق سے بات کرنا چاہتے جو لڑائی میں سرگرم ہے۔‘‘

وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نے طالبان کے ساتھ اس سلسلے کو ناگوار لیکن ضروری قرار دیا ہے ۔ لیکن سرکاری عہدے دار اور تجزیہ کار کہتے ہیں کہ رابطے ابھی بالکل ابتدائی مراحل میں ہیں۔ سفیر جواد کہتے ہیں کہ ابھی تو مذاکرات کے بارے میں مذاکرات ہو رہے ہیں۔ انھوں نے قبل از وقت بہت زیادہ توقعات وابستہ کرنے کے بارے میں انتباہ کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG