رسائی کے لنکس

غیرملکی فوجی انخلا کے بعد افغان معیشت

  • بیتھنی موٹا
  • ندیم یعقوب

اتحادی افواج دوسا ل بعد افغانستان سے واپس جائیں گی مگر مستقبل میں وہاں جو حالات پیدا ہونگے ان کے اثرات ابھی سے نمایاں ہونے شروع ہوگئے ہیں۔ کابل میں بہت سے جائیدادیں کرائے کے لئے خالی ہیں یا فروخت کے لئے مارکیٹ میں ہیں۔ لوگ اس تیزی سے بینکوں سے سرمایہ نکال کر باہر لے جا رہے ہیں کہ افغانستان کے مرکزی بینک کو بیس ہزار ڈالر سے زیادہ رقم نکالنے پر پابندی لگانی پڑی ۔ سرمایہ کار افغانستان سے بھاگ رہے ہیں۔

افغا نستان کے امرااور غیر ملکی امدادی ادارے ایک عرصے سے کابل کے علاقے وزیر اکبر خان میں رہتے رہے ہیں۔ مگر اب یہ علاقہ خالی ہوتا جا رہا ہے ۔ غیر ملکی ادارے دفاتر بند کر رہے ہیں۔ سرمایہ کار محفوظ ٹھکانوں کی تلاش میں ہیں۔ اور حالات کا اثر کابل کے عام شہریوں پر بھی پڑ رہا ہے۔

ٹرک ڈرائیور محراب گل پاکستان سے سیمنٹ اور آٹالا کر روزگار کماتے ہیں۔اور کہتے ہیں کہ کاروبار کے حالات خراب ہو رہے ہیں ۔ ان کا کہناہے کہ اب آرڈر کم ہو رہے ہیں۔ پہلے میں ایک ماہ میں چھ ٹرک سیمنٹ لاتا تھا جو اب صرف تین رہ گئے ہیں۔

ٹرک ڈرائیور پولیس کے رشوت وصول کرنے کی شکایات بھی کرتے ہیں۔ سرکاری سطح پر کرپشن سے پریشان سرمایہ کاروں کا ایک بڑا طبقہ سن 2011میں ساڑھے چار ارب ڈالرکی رقم افغانستان سے باہر منتقل کر چکا ہے ۔

کابل کی منی ایکس چینج یونین کے صدر نجیب اللہ اخترے کو ڈر ہے کہ امریکی اور نیٹو افواج کے نکلنے سے افغانستان خانہ جنگی کا شکار ہو جائے گا ۔ وہ کہتے ہیں کہ کاروبار ی لوگ فرار ہو رہے ہیں۔ 2014ءتک فوجوں کی واپسی کے خیال کا مارکیٹ پر منفی اثر ہو رہا ہے۔

دس سالہ جنگ کے دوران کئی افغا ن کاروبار غیر ملکی کمپنیوں سے ملنے والے ٹھیکوں پر پھل پھول رہے تھے مگر فوج کے انخلا کے طے شدہ پروگرام سے کاروباری طبقہ فکر مند ہے ۔

افغان عوام کے ایک حلقے کو امن و امان کی صورتحال بگڑنے کا خدشہ بھی ہے ۔ افغانستان کا تاجر طبقہ کابل کے اند ر بھی باڈی گارڈز کے ساتھ سفر کرنا پسند کرتا ہے ۔ اغوا کے واقعات عام ہیں ۔ کابل پولیس کا کہنا ہے کہ مسئلہ ان کے قابو میں ہے مگر کئی لوگوں کے مطابق میڈیا میں اس معاملے کو زیادہ کوریج نہیں دی جاتی ۔

لیکن پریشانی ان کاروباروں کوبھی ہے جو کئی سال سے کامیاب سمجھے جاتے تھے ۔ چھ سال سے چل رہے کو کا کولا کے اس پلانٹ میں بجلی کی قابل اعتبار سپلائی موجود نہیں اور فیکٹری کا انحصار تیل پر چلنے والے جینریٹرز پر ہے ۔ اور ممکن ہے ، کہ وقت گزرنے کے ساتھ شاید یہی بجلی کی سپلائی کا مستقل ذریعہ بن جائے ۔

XS
SM
MD
LG