رسائی کے لنکس

’افغانستان میں شفاف انتخابات ممکن نہیں‘

  • ن ہ

افغانستان میں الیکشن کمیشن کے اہلکار ٹرک میں بیلٹ باکس رکھتے ہوئے (فائل فوٹو)

افغانستان میں الیکشن کمیشن کے اہلکار ٹرک میں بیلٹ باکس رکھتے ہوئے (فائل فوٹو)

رچرڈ ہالبروک نے کہا کہ جب افغانستان مستحکم اور اپنی حفاظت خود کرنے کے قابل ہوگا اس وقت یہاں سے غیر ملکی لڑاکا افواج کا انخلاء ہوگا لیکن امریکہ اس کے بعد بھی افغانستان کی اقتصادی امداد جاری رکھے گا کیوں کہ اُسے اس کی ضرورت ہے۔

امریکہ کے خصوصی ایلچی رچرڈ ہالبروک نے کہا ہے کہ انھیں اُمید ہے کہ افغانستان میں ہفتہ کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات شفاف اور منصفانہ ہوں گے لیکن وہ اس بات سے بھی بخوبی آگاہ ہیں کہ یہ ایک نا قص عمل ہوگا کیوں کہ ایک ایسے وقت جب ملک حالت ِ جنگ میں ہے اور طالبان کے حملے بھی جاری ہیں ایک مکمل طور پر شفاف انتخابی عمل کا انعقاد ممکن نہیں۔

جمعہ کواسلام آباد میں ریڈیو پاکستان کے زیر اہتمام صحافیوں کے ساتھ ایک مذاکرے میں اُنھوں نے کہا کہ افغانستان کے انتخابات ایک انتہائی پیچیدہ معاملہ ہے کیوں کہ ہر نشست کے لیے دس دس امیدوار ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔ ہالبروک نے کہا کہ امریکہ انتخابات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے جس کے لیے اتحادی فوجوں کو ووٹروں اور پولنگ اسٹیشنوں کی حفاظت کے لیے تعینات کیا جا چکا ہے ۔

اُنھوں نے کہا کہ یہ انتخابات مکمل طور پر قابل قبول نہیں ہوں گے کیوں کہ ان میں وسیع پیمانے پر دھاندلیوں کے الزامات لگیں گے اوراُنھیں یقین ہے کہ جب 90 فیصد اُمیدواروں کو شکست ہوگی تواُن میں سے کچھ انتخابی نتائج پر اعتراضات اٹھائیں گے۔ ” لیکن کیا ان انتخابات کے نتیجے میں افغانستان میں استحکام آئے گا، میرے خیال میں اس کے لیے صرف انتخابات کافی نہیں بلکہ اس کا انحصار منتخب ہونے والی پارلیمان پر ہو گا اور یہ عمل آئندہ سال کے اوائل سے پہلے پورا نہیں ہوگا۔“

رچرڈ ہالبروک نے کہا کہ جب افغانستان مستحکم اور اپنی حفاظت خود کرنے کے قابل ہوگا اس وقت یہاں سے غیر ملکی لڑاکا افواج کا انخلاء ہوگا لیکن امریکہ اس کے بعد بھی افغانستان کی اقتصادی امداد جاری رکھے گا کیوں کہ اُسے اس کی ضرورت ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ امریکہ اور پاکستان دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ یہ نہ تو افغانستان ، نہ پاکستان اور نہ ہی خطے کے مفاد میں ہے کہ طالبان کو یہاں کنٹرول سنبھالنے کا موقع ملے۔

”میں یہ بات بھی واضح کرنا چاہتا ہوں کہ افغانستان میں پاکستان کا ایک جائز اور اہم کردار ہے ، اور میں جب بھی یہاں آتا ہوں تو آپ کے رہنماؤ ں کے ساتھ صرف پاکستان کے معاملات پر بات نہیں کرتا بلکہ افغانستان پر بھی بات کرتا ہوں کیونکہ افغانستان کے ساتھ آپ کے جائز مفادات منسلک ہیں۔“

رچر ڈ ہالبروک نے کہا کہ دونوں ملکوں کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے اور اُنھوں نے اس بارے میں جمعرات کو اسلام آباد میں افغان صدر حامد کرزئی سے بات کی اور آئندہ ہفتے جب وہ نیویارک آئیں گے تو اس پر مزید بات ہوگی۔ اُنھوں نے کہا کہ امریکہ کا مقصد افغانستان کو مستحکم کرنا اور دونوں ملکوں کے درمیان بہتر تعلقات کو فروغ دینا ہے۔

امریکی ایلچی نے کہا کہ بدعنوانی کا خاتمہ افغانستان میں کامیابی کے لیے بہت ضروری ہے لیکن وہ یہ بات واضح کرنا چاہتے ہیں کہ امریکہ کا اولین مقصد بدعنوانی کا خاتمہ نہیں ہے کیونکہ ایسا کرنا ممکن نہیں۔ بلکہ انھوں نے کہا کہ امریکہ افغانوں کی مدد کر کے ملک میں ایک ایسی حکومت قائم کرنے کے لیے کوشاں ہے جو لوگوں کی ضروریات کو پورا کرنے پر توجہ دے اور جسے لوگ ایک دوست حکومت سمجھیں۔

XS
SM
MD
LG