رسائی کے لنکس

حکام پانچ اپریل کے انتخابات میں شفافیت، اور غیرجانبداری کو یقینی بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے لیکن مبصرین اس متعلق کچھ زیادہ پرامید دکھائی نہیں دیتے۔

جنگ سے تباہ حال افغانستان میں ہفتہ کو ہو رہے صدارتی انتخابات پر دنیا کی نظریں لگی ہوئی ہیں کیونکہ جہاں ایک طرف اس ملک میں پہلی مرتبہ جمہوری انداز میں انتقال اقتدار ہونے جا رہا وہیں رواں سال کے اواخر تک تمام غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد خطے کی سلامتی سے متعلق خدشات بھی بدستور موجود ہیں۔

2001ء میں امریکہ کی زیر قیادت بین الاقوامی اتحاد نے افغانستان سے طالبان کے اقتدار کا خاتمہ کیا اور اس کے بعد حامد کرزئی ملک کے صدر بنے۔ لیکن ایک دہائی سے زائد عرصے کے دوران یہاں طالبان حکومت اور بین الاقوامی افواج کے خلاف پرتشدد کارروائیاں کرتے رہے جن میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

حالیہ مہینوں میں طالبان کی طرف سے ایک بار پھر ہلاکت خیز حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا جس دوران طالبان کا یہ دعویٰ بھی سامنے آ چکا ہے کہ غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد وہ دوبارہ اقتدار سنبھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اسی تناظر میں امریکہ نے افغانستان کے ساتھ دوطرفہ سکیورٹی معاہدہ بھی تجویز کر رکھا ہے جس پر سبکدوش ہونے والے صدر کرزئی کی طرف سے دستخط نہ کیے جانے کی وجہ سے یہ تاحال قابل عمل نہیں ہو سکا ہے۔

اس منصوبے کے تحت غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد بھی محدود تعداد میں امریکی فوجی افغانستان میں موجود ہوں گے اور وہ مقامی سکیورٹی فورسز کی تربیت سمیت انسداد دہشت گردی کی جنگ میں معاونت بھی فراہم کریں گے۔

صدارتی انتخاب کی دوڑ میں شامل دو اہم اُمیدوار اشرف غنی اور زلمے رسول صدر منتخب ہونے کی صورت میں اس معاہدے پر دستخط کا عندیہ دے چکے ہیں۔

2009ء میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی اور بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آئے تھے اور تقریباً پانچ لاکھ سے زائد ووٹوں کو مسترد بھی کر دیا گیا تھا۔

اُس وقت حامد کرزئی کے ایک مضبوط حریف سابق وزیرخارجہ عبداللہ عبداللہ نے حکومت پر دھاندلی کے الزامات لگاتے ہوئے آخری وقت میں انتخابات سے دستبردار ہونے کا اعلان کر دیا تھا۔

حکام پانچ اپریل کے انتخابات میں شفافیت، اور غیرجانبداری کو یقینی بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے لیکن مبصرین اس متعلق کچھ زیادہ پرامید دکھائی نہیں دیتے۔

لیکن دوسری طرف گزشتہ ایک سال میں تقریباً چالیس لاکھ نئے ووٹوں کے اندراج کو انتخابی عمل میں لوگوں کی شمولیت اور اعتماد کا اظہار بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ ہفتہ کو ہونے والی رائے شماری میں حصہ لینے کے لیے ایک کروڑ دس لاکھ افغان اہل ہیں۔

افغانستان میں انتخابات کی نگرانی کے لیے غیر ملکیوں سمیت ہزاروں مبصرین ملک کے طول و عرض میں پھیلے پولنگ اسٹیشن کا جائزہ لیں گے لیکن سکیورٹی خدشات کی وجہ سے یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ یہ لوگ بھی اپنا کام آزادانہ طور پر انجام نہ دے سکیں۔

2014ء کے انتخابات خواتین کی شمولیت کی وجہ سے بھی اہم خیال کیے جا رہے ہیں۔ نائب صدر کے لیے تین جب کہ صوبائی کونسل کے انتخاب کے لیے کم ازکم تیس سو خواتین امیدوار میدان میں ہیں جو کہ گزشتہ انتخابات کی نسبت ایک بڑی تعداد ہے۔
XS
SM
MD
LG