رسائی کے لنکس

افغان انتخابات کے معیار پر متضاد آراء


انتخابات سے متعلق شکایت سننے والے الیکشن کمپلینٹس کمیشن نے پیر کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ہفتہ کوہونے والے ووٹنگ کے عمل کے بارے میں اُسے اب تک سات سو سے زائد شکایات موصول ہو چکی ہیں اور توقع ہے کہ آئندہ دو روز تک دھاندلی اور بے ضابطگیوں سے متعلق شکایات کی تعداد تین ہزار سے تجاوز کر جائے گی۔

افغانستان میں اٹھارہ ستمبر کو ہونے والے انتخابات میں پولنگ ا سٹیشنوں پر دھاندلی، ڈالے گئے ووٹوں کی کم شرح اور تشدد کے واقعات کے باوجود افغان الیکشن کمیشن کے عہدے داروں نے انتخابی عمل کو کامیاب قرار دیا ہے۔ لیکن افغانستان میں اقوام متحدہ کے نمائندے اور انتخابات کی نگرانی کرنے والی مرکزی افغان تنظیم نے انتخابی عمل کو کامیا ب قرار دینے کے بارے میں شکوک وشبہات کا اظہار کیا ہے۔

پیر کو کابل میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدارتی ترجمان وحید عمر نے کہا کہ پارلیمان کے ایوان زیریں یا ولسی جرگہ کے لیے ہونے والے انتخابات کے معیار اور انتظامات کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم کرنا قبل ازوقت ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ حکومت تقریباً افغانستان کے تمام حصوں میں انتخابات منعقد کرنے میں کامیاب رہی لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس عمل کے انعقاد میں حکومت کو مشکلات پیش نہیں آئیں۔ صدارتی ترجمان کے بقول ملک دشمن عناصر اور بعض سیاسی حلقوں کی طرف سے افغان عوام میں مایوسی پھیلانے اور انھیں یہ باور کرانے کی کوششیں کی گئی کہ افغانستان میں انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ۔ لیکن ان سب کے باوجود انتخابی عمل مقررہ دن اور وقت پر مکمل کر لیا گیا۔

انتخابات سے متعلق شکایت سننے والے الیکشن کمپلینٹس کمیشن نے پیر کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ہفتہ کوہونے والے ووٹنگ کے عمل کے بارے میں اُسے اب تک سات سو سے زائد شکایات موصول ہو چکی ہیں اور توقع ہے کہ آئندہ دو روز تک دھاندلی اور بے ضابطگیوں سے متعلق شکایات کی تعداد تین ہزار سے تجاوز کر جائے گی۔

افغان انتخابات کے معیار پر متضاد آراء

افغان انتخابات کے معیار پر متضاد آراء

غیر جانبدار افغان تنظیم فری اینڈ فیئر الیکشن فاؤنڈیشن نے دھاندلی کے سنگین نوعیت کے الزامات، رائے دہندگان کو دھمکانے اور تشدد سے متعلق شکایات کو عدلیہ کے پاس بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم کے چیئرمین نادر نادری کے مطابق انھیں اب تک تین سو ایسی شکایات موصول ہوئی ہیں جن میں ووٹرز کو بااثر افغان جنگجو سرداروں کی طرف سے براہ راست دھمکیاں دی گئیں۔

مبصرین کا خیال ہے کہ دھاندلی، تشدد اور رائے دہندگان کو ڈرانے دھمکانے کے واقعات انتخابات کے ٹرن آوٹ پر اثر انداز ہو ئے ہیں۔ سرکاری اندازوں کے مطابق 36 لاکھ افغانوں نے انتخابات میں ووٹ ڈالے جبکہ گذشتہ سال صدارتی انتخا ب میں یہ تعداد ساٹھ لا کھ تھی۔

پارلیمان کے ایوان زیریں کی 249 نشستوں کے لیے لگ بھگ 2,500 امیدوار وں نے انتخابات میں حصہ لیا جن میں چار سو سے زائد خواتین بھی شامل ہیں جن کے لیے ولسی جرگہ میں ساٹھ نشستیں رکھی گئی ہیں۔

امریکہ میں قائم نیشنل ڈیموکریٹک انسٹیٹیوٹ نے پیر کو جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ انتخابات کے دن تشدد کے واقعات کے باوجود لاکھوں افغانوں نے اس عمل میں شرکت کر کے قابل تحسین اور جرأت کا مظاہرہ کیا ہے۔

تاہم تنظیم نے انتخابات میں بعض مسائل کی نشاندہی کی ہے جن میں سے کچھ 2004 ء سے چلے آرہے ہیں جب ملک میں پہلی مرتبہ انتخابات منعقد کیے گئے ۔ ان میں قابل ذکر رائے دہندگان کے اندراج کا ناقص عمل، انتخابی عمل میں شرکت کے لیے خواتین کی راہ میں حائل رکاوٹیں اور افغان حکومت کے اثر سے الیکشن کمیشن اور الیکٹرول کمپلینٹس کمیشن کو آزاد کرانا شامل ہیں۔

این ڈی آئی نے افغان صدر حامد کرزئی اور ان کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ انتخابات سے متعلق جرائم کی مکمل تحقیقات کرائیں اور پارلیمان کو الیکشن کمیشن اور الیکٹرول کمپلینٹس کمیشن غیر جانبداری کو یقینی بنانے کے علاوہ انتخابی عمل میں اصلاحات کی ایک جامع مہم شروع کرے۔

XS
SM
MD
LG