رسائی کے لنکس

خودمختار الیکشن کمیشن کے شعبہ شکایات کے ترجمان نادر محسنی نے بھی عندیہ دیا کہ شکایات کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔

افغانستان میں گزشتہ اتوار کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے پرامن اور کامیاب انعقاد پر دنیا بھر کی طرف سے جنگ سے تباہ حال اس ملک کی تعریف کی گئی لیکن حکام کے مطابق انھیں تین ہزار سے زائد ایسی شکایات موصول ہوئی ہیں جن میں انتخابی قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

انتخابات میں دھاندلی سے متعلق جانچ پڑتال کرنے والے کمیشن کے ایک ترجمان کے مطابق موصول ہونے والی 3103 شکایات میں سے صرف نصف ہی کی تحقیقات کی جائیں گی کیونکہ بقیہ شکایات ٹیلی فون کے ذریعے کی گئیں اور جن میں ضروری شواہد یا دستاویزات موجود نہیں۔

ان انتخابات میں حصہ لینے والے تین اہم اور مرکزی امیدواروں عبداللہ عبداللہ، اشرف غنی احمد زئی اور زلمے رسول کی طرف سے بھی دھاندلی اور بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آ چکے ہیں۔

انتخابات میں دھاندلی یا بے ضابطگیوں سے متعلق شکایات جمع کروانے کا وقت پیر کو نصف شب ختم ہوگیا تھا لیکن ملک کے تمام علاقوں سے بیلٹ باکسز کے کابل پہنچنے کے وقت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہا جارہا ہے کہ مزید شکایات بھی موصول ہو سکتی ہیں۔

انتخابی امیدواروں، رائے دہندگان اور مبصرین کی طرف سے پولنگ اسٹیشنوں پر درج کروائی گئی شکایات کو جمع کرنے میں کئی دن لگ سکتے ہیں جس کے بعد ہی حتمی صورتحال سامنے آئے گی۔

خودمختار الیکشن کمیشن کے شعبہ شکایات کے ترجمان نادر محسنی نے بھی عندیہ دیا کہ شکایات کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔ ان کے بقول اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے انتخابات کے دوران دھوکہ دہی اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیوں کے بعض واقعات رونما ہوئے۔

2009 میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں بھی بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات سامنے آئے تھے لیکن اس وقت درج کروائی گئی شکایات کی تعداد محض دو ہزار تھی۔ ان انتخابات میں لاکھوں ووٹ مسترد کر دیے گئے تھے۔

اتوار کو ہونے والے انتخابات میں طالبان کی طرف سے خلل ڈالنے اور ہلاکت خیز حملوں کی دھمکیوں کے باوجود ایک کروڑ بیس لاکھ اہل ووٹروں میں سے ڈالے گئے ووٹوں کی شرح تقریباً 60 فیصد بتائی گئی۔

صدر حامد کرزئی دو بار صدر رہنے کی وجہ سے آئینی طور پر تیسری مدت کے لیے انتخاب میں حصہ لینے کے اہل نہیں تھے۔

افغانستان میں ان انتخابات کو تاریخی موقع قرار دیا جارہا ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں پہلی مرتبہ جہموری انداز میں انتقال اقتدار ہونے جارہا ہے۔

حالیہ مہینوں میں شدت پسندوں کی طرف سے تشدد کی کارروائیوں میں اضافہ بھی دیکھا گیا اور طالبان نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ رواں سال کے اواخر میں تمام غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد وہ دوبارہ تسلط قائم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اسی تناظر میں مبصرین ان خدشات کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ بین الاقوامی افواج کی غیر موجودگی میں افغانستان کی صورتحال کے خطے کے امن پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

امریکہ نے افغانستان کے ساتھ ایک دو طرفہ سکیورٹی معاہدہ بھی تجویز کر رکھا ہے جس کے تحت 2014 کے بعد بھی محدود تعداد میں امریکی فوجی افغانستان میں رہتے ہوئے یہاں سکیورٹی فورسز کو تربیت اور انسداد دہشت گردی میں معاونت فراہم کریں گے۔

لیکن صدر حامد کرزئی کی طرف سے اس پر دستخط سے انکار کے بعد یہ معاہدہ ابھی تک نافذ العمل نہیں ہوسکا ہے۔ صدارتی انتخابات میں حصہ لینے والے تین اہم امیدوار کامیابی کی صورت میں اس معاہدے پر دستخط کا عندیہ دے چکے ہیں۔
XS
SM
MD
LG