رسائی کے لنکس

افغانستان میں انتخابات، پوسٹروں کی چھپائی پشاور میں

  • شمیم شاہد

تاہم جنگ سے تباہ حال ملک افغانستان میں اس بار ہونے والے انتخابات کے لیے چھپائی کا کام ماضی کی نسبت کم تعداد میں پشاور کے حصے میں آیا ہے۔

پڑوسی ملک افغانستان میں رواں ماہ صدارتی انتخابات ہونے جا رہے ہیں اور شدت پسندوں کی طرف سے اس میں رخنہ ڈالنے کی دھمکیوں کے باوجود انتخابات کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے مرکزی شہر پشاور میں ان دنوں افغان انتخابی امیدواروں کے لیے اشتہاری مواد کی تیاری اور چھپائی کا کام جاری ہے اور ایک معقول تعداد میں چھاپہ خانے اس میں مصروف ہیں۔

اس شعبے سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ اس سے قبل بھی افغانستان کے انتخابات کے لیے اشتہاری مواد کی چھپائی پشاور میں ہی ہوتی رہی ہے جس سے کاروباری سرگرمیاں تیز اور روزگار کے خاصے مواقع پیدا ہوا کرتے تھے۔

تاہم جنگ سے تباہ حال ملک افغانستان میں اس بار ہونے والے انتخابات کے لیے چھپائی کا کام ماضی کی نسبت کم تعداد میں پشاور کے حصے میں آیا ہے۔

اس امر پر پرنٹنگ کے شعبے کے وابستہ مقامی افراد کچھ دل گرفتہ ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ افغانستان کے لوگوں نے وعدہ کیا تھا کہ انھیں اس بار بھی قابل ذکر کاروباری موقع دیا جائے لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔


محلہ جنگی میں واقع ایک پرنٹنگ پریس کے لیے کام کرنے والے حافظ محمد جعفر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ گزشتہ انتخابات میں افغانستان سے انھیں جتنا کام ملا کرتا تھا اس کی نسبت اس بارے ملنے والا کام "آٹے میں نمک" کے برابر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانوں کے وعدے کی بنیاد پر انھوں نے بہت سی تیاریاں کر رکھی تھیں جس سے انھیں کافی نقصان بھی برداشت کرنا پڑا ہے۔

"ہم نے میٹیرئل جمع کیا ہوا تھا، مزدوروں کی ڈیوٹیاں لگائی ہوئی تھیں، جہاں دس بندے کام کرتے تھے ہم نے 20 لوگوں کو رکھا ہوا تھا کہ ڈبل شفٹ میں کام ہو گا۔ لیکن کافی نقصان ہوا ہے۔"

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی نسبت پاکستان میں چھپائی کے کام کا معیار بہتر اور خرچ کم ہے اور اسی وجہ سے پوسٹر، کارڈز، کتابچے، پینافلیکس اور بینرز یہیں سے بن کے جایا کرتے تھے۔

عفان بخش ایک پرنٹنگ پریس کے لیے کمپوٹر ڈیزائننگ کا کام کرتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اب افغانستان میں بھی پرنٹنگ کا کام کافی ہو گیا ہے اور پاکستان سے تربیت حاصل کر کے جانے والے وہاں اب یہ اپنے چھاپے خانے چلا رہے ہیں۔

ان کے بقول وہاں کے پرنٹنگ پریس والوں نے باہمی مشاورت سے زیادہ سے زیادہ کام اپنے ہاں ہی کرنے کا فیصلہ کیا۔

پشاور ہی کے ایک چھاپہ خانے میں کام کرنے والے مرسلین نے اس بار افغان انتخابات کے لیے ملنے والے کام کا ماضی سے موازنہ کرتے ہوئے کہا۔

"پہلی دفعہ جو وہاں انتخابات ہوئے تھے تو میں نے 40 سے 50 ہزار تک بروشر چھاپا تھا اس دفعہ پانچ سے دس ہزار تک چھپائی ہوئی ہے۔

انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پڑوسی ملک انتخابات کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان کاروباری سرگرمیاں ایک بار پھر بڑھیں گی۔
XS
SM
MD
LG