رسائی کے لنکس

افغان سکیورٹی حکام نے پانچ لوگوں کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے دس ٹن دھماکا خیز مواد برآمد کیا ہے۔

گرفتار کیے جانے والوں میں تین پاکستانی اور دو افغان شہری بتائے جاتے ہیں اور حکام کے مطابق یہ لوگ دھماکا خیز مواد دارالحکومت کابل میں دہشت گردانہ حملوں کے لیے استعمال کرنا چاہتے تھے۔

نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی کے ایک ترجمان شفیق اللہ طاہری نے بتایا کہ اگر بارودی مواد استعمال ہوجاتا تو اس سے ’’بڑے پیمانے پر خون خرانہ‘‘ ہونا تھا۔

طاہری نے کہا کہ یہ مواد پاکستان سے افغانستان لایا گیا اور ایک ٹرک میں آلوؤں کی بوریوں کے نیچے سے دھماکا خیز مواس کے 400 تھیلے برآمد کیے گئے۔

افغان حکام پاکستان پر دہشت گرد گروپوں کو پناہ دینے کا الزام لگاتے آئے ہیں۔ پاکستان عسکریت پسندوں کی حمایت یا انھیں اپنی سرزمین میں پناہ دینے کے الزمات کی تردید کرتا ہے۔

افغان شہروں اور کابل میں سفارتی اور سرکاری عمارتوں پر گزشتہ اتوار کو منظم دہشت گردانہ حملے کیے گئے جسے طالبان کے بقول موسم بہار کی جنگ کا آغاز کہتے ہیں۔

افغان اور امریکی حکام ان حملوں کا ذمہ دار حقانی نیٹ ورک کو قرار دیتے ہیں جو طالبان اور القاعدہ سے منسلک ایک دہشت گرد گروپ ہے۔ اس گروپ کو امریکی حکام افغان جنگ میں سب سے خطرناک عسکریت پسند قوت قرار دیتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG