رسائی کے لنکس

مولانا فضل اللہ کی افغانستان میں ہلاکت کی اطلاعات


مولانا فضل الله

مولانا فضل الله

افغان حکام نے جمعرات کے روز دعویٰ کیا ہے کہ سرحدی صوبے نورستان میں پانچ روز سے جاری جھڑپوں میں پاکستان کے شمالی علاقے سوات سے تعلق رکھنے والے طالبان کمانڈر مولانا فضل الله کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

پولیس اور سرحدی سکیورٹی فورس کا کہنا ہے کہ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق مولانا فضل الله کی ہلاکت بدھ کی شب ضلع برگ ِ ماتل میں ہوئی جہاں عسکریت پسند اپنا قبضہ قائم کرنے کے لیے افغان سکیورٹی فورسز اور مقامی حکومت حمایتی مسلح افراد کے ساتھ لڑائی کر رہے ہیں۔

مولانا فضل الله، جو ماضی میں کی جانے والی غیر قانونی ریڈیونشریات کی وجہ سے مولانا ریڈیو کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، گذشتہ سال تک سوات میں پاکستانی طالبان کی سربراہی کرتا رہا ہے لیکن اپریل 2009 میں شروع کی گئی ایک بھر پور فوجی کارروائی کے بعد اس پرکشش مگر شورش زدہ وادی میں جنگجوؤں کی موجودگی کو خاصی حد تک ختم کر دیا گیا ہے۔

ماضی میں بھی مولانا فضل الله کے مارے جانے یا شدید زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں لیکن کبھی ان کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق نہیں ہوئی۔

افغان سرحد سے ملحقہ پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ میں طالبان کمانڈر مولوی فقیر محمد نے نورستان میں جاری جھڑپوں میں مولانا فضل الله کی ہلاکت کی اطلاعات پر ابہام کا اظہار کیا ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ مولانا فضل الله اپنے ساتھیوں کے ساتھ نورستان گیا تھا تاہم طالبان کمانڈر نے وقت کی نشاندہی نہیں کی۔

نورستان پاکستانی علاقے چترال سے جوڑا ہوا ہے اور مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ یہاں بھی اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ مولانا فضل الله اور اس کے ساتھی افغان سکیورٹی فورسز کے ساتھ لڑائی کر رہے ہیں ۔

افغان وزارتِ داخلہ کے بقول نورستان میں جاری جھڑپوں میں ایک پولیس اہلکار اور کم از کم سات شدت پسند ہلاک ہو چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG