رسائی کے لنکس

افغانستان: دہشت گرد حملے میں پانچ خواتین سیکیورٹی اہل کار ہلاک


فائل فوٹو

تاحال کسی فرد یا گروہ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ لیکن افغانستان میں اس سے قبل بھی خاص طور پر ملازمت پیشہ خواتین کو شدت پسند نشانہ بناتے رہے ہیں۔

افغان عہدے دارو ں نے کہا ہے کہ جنوبی صوبے قندھار میں مسلح افراد نے چھ سرکاری اہلکاروں کو، جن میں پانچ خواتین شامل تھیں گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

صبح سویرے ہونے والا یہ حملہ اس وقت ہوا جب نامعلوم حملہ آوروں نے قندھار ایئر پورٹ کی سیکیورٹی کے عملے کی خواتین کارکنوں کو کام پر لے جانے والی چھوٹی وین پر گھات لگا کر حملہ کیا اور گولیوں کی بوچھاڑ کر دی۔

اس مہلک حملے میں مرد ڈرائیور بھی ہلاک ہو گیا۔

تشدد کے اس واقعے کے لیے کسی نے فوری طور پرذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

یہ افغانستان میں خواتین کے خلاف حملوں کے سلسلے میں تازہ ترین حملہ تھا۔

طالبان کے ایک ترجمان نے اس میں کسی قسم کے ملوث ہونے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اسلام پرست شورش پسندوں کا اس حملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن نے ہفتے کے اس حملے کی مذمت کی ہے اور افغان خواتین کے خلاف ہدف بنا کر کئے جانے والے تمام حملوں کے لئے احتساب کا مطالبہ کیا ہے ۔

افغانستان کے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق رواں سال کے پہلے آٹھ ماہ میں خواتین کے خلاف جرائم سے متعلق تین ہزار سات سو مقدمات درج ہوئے جب کہ گزشتہ سال یہ تعداد پانچ ہزار سے زائد تھی

XS
SM
MD
LG