رسائی کے لنکس

فرانس نے فوجیوں کی ہلاکت پر افغان آپریشن معطل کر دیا


فائل فوٹو

فائل فوٹو

فرانس نےکہا ہےکہ وہ افغانستان میں ایک افغان فوجی کے ہاتھوں چار فرانسیسی فوجیوں کو گولی مار کر ہلاک کیے جانے کے بعد وہاں اپنی تمام تربیتی اور مشترکہ کارروائیاں معطل کر رہا ہے۔

صدر نکولس سرکوزی نے یہ بھی کہا کہ افغانستان میں اگر جمعے کے حملے کے بعد سیکیورٹی کے حالات واضح طور پر ٹھیک نہ ہوئے تو وہ فرانسیسی فوجیوں کی جلد واپسی پر غور کر رہا ہے ۔

افغان سیکیورٹی کے عہدے داروں نے کہا کہ مشرقی افغانستان کے صوبے کپیسا میں ہونےوالے ایک حملے میں کم از کم16 افراد ہلاک ہوئے۔

فرانسیسی وزیر دفاع جیرالڈ لانگوٹ نےکہا کہ فرانسیسی اور افغان فورسز کے ایک مشترکہ اڈے پر ایک تربیتی مشق کے دوران جب حملہ آور نے فائر کھولا تو فرانسیسی فوجی غیر مسلح تھے ۔ حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا ہے ۔

جمعے کا واقعہ ان متعدد حملوں میں سے تازہ ترین ہے جن میں افغان سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں بین الاقوامی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

دسمبر میں ایک افغان فوجی نے کپیسا میں ایک فرانسیسی غیر ملکی دستے پر فائر کھول کر دو ارکان کو ہلاک کر دیا تھا ۔ اور اس ماہ کے شروع میں ، ایک افغان فوجی نے صوبے زابل میں ایک افغان فوجی اور امریکی عملے کے ایک اہلکار کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

جمعے کے روز ہونے والی ہلاکتوں کے بعد افغان جنگ میں ہلاک ہونے والے فرانسیسی فوجیوں کی تعداد 82 ہو گئی ہے۔ فرانس کے افغانستان میں لگ بھگ 3600 فوجی موجود ہیں جو زیادہ تر مشرقی حصے میں ہیں ۔ جب کہ تمام جنگی فوجی 2014 میں ملک سے رخصت ہو جائیں گے ۔

جمعے کے روز صدر سرکوزی نے کہا کہ یہ چیز ناقابل قبول ہے کہ افغان فوجیوں کے ہاتھوں فرانسیسی فوجیوں کی ہلاکت ناقابل قبول ہیے۔

کابل میں صدارتی محل سے جاری کیے گئے ایک بیان میں صدر حامد کرزئی نے اس واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

’’صدر کرزئی اس المناک واقعے پر فرانسیسی صدر، متاثرہ خاندانوں اور فرانس کے عوام سے تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔‘‘

XS
SM
MD
LG