رسائی کے لنکس

افغانستان: وعدوں کے باوجود قیام امن کا مستقبل غیر یقینی

  • فل اٹنر

افغانستان: وعدوں کے باوجود قیام امن کا مستقبل غیر یقینی

افغانستان: وعدوں کے باوجود قیام امن کا مستقبل غیر یقینی

امریکہ پر دہشت گردوں کے گیارہ ستمبر 2001 کے حملوں کے فوراً بعد، امریکہ اور اس کے نیٹو اتحادیوں نے طالبان کو اقتدار سے ہٹانے اور وہاں چھپے ہوئے القاعدہ کے دہشت گردوں کو اکھاڑ پھینکنے کے لیے افغانستا ن میں جنگ شروع کر دی۔ یہ جنگ اب بھی زور شور سے جاری ہے ۔

محمد یاسین جان اپنے بچوں کو ایک ایسے مستقبل کے لیے تعلیم دے رہے ہیں جس کے بارے میں کوئی یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتا۔ دس سال پہلے جب امریکہ اور نیٹو کی فوجیں افغانستان میں داخل ہوئیں، تو وہ اس کے فوراً بعد ایران سے واپس لوٹ آئے ۔انھوں نے سوچا کہ ان کے وطن میں جو جنگ کے زخموں سے چور ہے، بالآخر امن قائم ہو گیا ہے ۔

وہ کہتے ہیں’’جب ہم پناہ گزیں تھے تو وہ ہمارے ساتھ انسانوں جیسا سلوک بھی نہیں کرتے تھے ۔ جب ہم واپس یہاں رہنے آئے، تو کابل میں سیکورٹی بہتر ہو چکی تھی ۔ اب ہم اپنی روزی کما سکتےہیں۔ ہم خوش ہیں اور اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ افغانستان میں سیکورٹی اور بہتر ہو جائے تا کہ ہم اور زیادہ بہتر زندگی گذار سکیں۔‘‘

یاسین کی بیٹیاں اب کابل میں اسکول جاتی ہیں۔ اب انہیں طالبان کی آمرانہ حکومت سے نجات مل گئی ہے ۔افغانستان کے دارالحکومت میں جمہوری طور پر منتخب حکومت قائم ہے ۔ نیٹو اور افغان فوجیں ملک کے وسیع حصوں کی حفاظت کرتی ہیں۔ لیکن طالبان کا خطرہ موجود ہے ، اور افغانستان میں امن قائم نہیں ہو سکا ہے ۔ ملک میں غربت اور بد عنوانی عام ہے ۔ پوست کی کاشت اور منشیات کی غیر قانونی تجارت زندگی کا حصہ ہے ۔ ملک میں معدنیات کے وسیع ذخائر کو نکالنے میں بھی جن سے ملک کو دولت ملے گی، کئی برس لگیں گے۔

افغانستان کی پارلیمینٹ کی رکن فوزیہ کوفی کو یہ فکر ہے کہ مغرب ان کے ملک کو چھوڑ کر چلا جائے گا، اور افغانستان میں پھر وہی شورش برپا ہوگی جو 1989 میں سوویت فوجوں کی واپسی کے بعد ہوئی تھی اور جس کے نتیجے میں طالبان بر سرِ اقتدار آئے تھے۔’’ہمیں ڈر یہ ہے کہ فوجوں کی جلد واپسی سے، یعنی جنگ کو صحیح طریقے سے ختم کیے بغیر اور ملک میں پائیدار امن قائم کیے بغیر، ملک کے حالات 1992 سے بھی زیادہ خراب ہو جائیں گے۔ اور اس کے جو منفی نتائج نکلیں گے، عدم تحفظ میں جو اضافہ ہو گا اور افغانستان میں ایک بار پھر جو طالبان کا اثر و رسوخ آئے گا، اس سے نہ صرف عورتوں کی حالت خراب ہو جائے گی اور افغانستان کے لوگوں پر برا اثر پڑے گا، بلکہ میری بات پر یقین کیجیئے کہ یہ آپ کے لیے بھی برا ہو گا۔‘‘

نیٹو نے پہلے ہی افغانستان میں اپنی جنگی کارروائیوں کو سمیٹنا شروع کر دیا ہے ۔ امریکہ کا منصوبہ ہے کہ وہ 2014 تک اپنی تمام فوجوں کو وہاں سے نکال لے ۔ اب زور اس بات پر ہے کہ افغان نیشنل آرمی کو ایک با صلاحیت اور مضبوط سیکورٹی فورس میں تبدیل کر دیا جائے اور کوئی ایسا طریقہ معلوم کیا جائے کہ طالبان کے بعض عناصر کے ساتھ مصالحت کی کوئی صورت نکل آئے۔ دونوں فریق چاہتے ہیں کہ مذاکرات کرتے وقت ان کی پوزیشن مضبوط ہو۔ لیکن محمد یاسین جان کی صرف ایک ہی آرزو ہے کہ ان کے بچے بڑے ہو جائیں اور افغانستان بہتر جگہ بن جائے۔

وہ کہتے ہیں’’اگر افغانستان میں امن بحال ہو جائے، تو ہمارے بچے اسکول جا سکتے ہیں، اپنی تعلیم مکمل کر سکتے ہیں، اور اپنے ملک کی خدمت کر سکتے ہیں۔ لیکن اگرامریکی افغانستان سے چلے جاتے ہیں اور سیکورٹی پھر خراب ہو جاتی ہے، تو ہمیں افغانستان چھوڑنا پڑے گا۔ ہمار ے پاس جو کچھ ہے ، ہم وہ سب بیچ دیں گے اور ایک بار پھر نقل مکانی کر جائیں گے۔‘‘

اور اس کا مطلب یہ ہوگا کہ یاسین کا بہتر زندگی کا خواب چکنا چور ہو جائے گا، اور افغانستان کو مزید کئی برسوں تک جنگ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

XS
SM
MD
LG