رسائی کے لنکس

رابرٹ گیٹس کی جانب سے امریکی فوج کے انٹیلی جنس کام پر شدید تنقید


امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے افغانستان میں امریکی فوج کے انٹیلی جنس کے کام پر شدید تنقید کی تائید کی ہے ۔یہ تنقیدی مقالہ جو اس ہفتے شائع ہوا ہے امریکہ اور نیٹو کے دو چوٹی کے انٹیلی جنس افسروں نے تحریر کیا ہے ۔ اس میں میجر جنرل Michael Flynn نے اپنے شعبے میں کام کے طریقوں میں اہم تبدیلیوں کا حکم دیا ہے۔ وائس آف امریکہ کے Al Pessin نے یہ رپورٹ بھیجی ہے


26 صفحات پر مشتمل اس مقالے کا عنوان ہے
Fixing Intel: A Blueprint for Making Intelligence Relevant in Afghanistan۔
اس میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ آٹھ سال کے دوران افغانستان میں ملٹری انٹیلی جنس کی کوششیں برائے نام اور غیر موٴثر رہی ہیں اور ان سے کمانڈروں اور سینیئر لیڈروں کو وہ معلومات نہیں مل سکی ہیں جن کی انھیں ضرورت ہے۔ رپورٹ کے مطابق، آج کل انٹیلی جنس جمع کرنے اور تجزیوں کے طریقوں سے جنگ کی حکمت عملی کو آگے بڑھانے میں کوئی مدد نہیں ملتی۔ نتیجہ یہ ہے کہ طویل مدت کے دوران، فوجیوں کے لیئے خطرات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

مقالے کے مصنفین نے، جن کی قیادت افغانستان میں امریکہ اور نیٹو کی فوجی انٹیلی جنس کے سربراہ، میجر جنرل Michael Flynn نے کی، کہا ہے کہ ان کے ماتحتوں کو یہ سمجھنا چاہیئے کہ انھیں اس رپورٹ کے مندرجات کے مطابق اپنی کارروائیوں کی اصلاح کرنی ہے۔

نئی ہدایات میں، زیادہ تجزیہ کاروں کو باہر بھیجنا، اورصرف باغی گروپوں پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے، افغان عوام کے بارے میں زیادہ معلومات حاصل کرنا شامل ہے۔ مقالے میں کہا گیا ہے کہ اب تک، ملٹری انٹیلی جنس کے بہت سے یونٹوں نے افغانستان میں نئے کمانڈر، جنرل Stanley McChrystal کے اس حکم پر اب تک کوئی دھیان نہیں دیا ہے کہ ہمیں آبادی کے مرکزوں پر توجہ دینی چاہیئے ۔

واشنگٹن میں بہت سے لوگوں کو اس بات پرحیرت ہوئی ہے کہ ایک سینیئر ملٹری انٹیلی جنس افسر نے اتنی تفصیلی ناقدانہ رپورٹ لکھی ہے اور اسے عام لوگوں کے لیئے ایک پرائیویٹ تنظیم، Center for a New American Security سے شائع کرایا ہے۔ وزیر دفاع، رابرٹ گیٹس نے بھی اس رپورٹ کو شائع ہونے کے بعد دیکھا۔ پینٹگان کی پریس سیکریٹری Geoff Morrell نے کہا کہ مسٹر گیٹس کی نظر میں یہ انتہائی عمدہ تجزیہ ہے اور اس میں جو نتائج اخذ کیے گئے وہ بالکل صحیح ہیں۔

Morrell کہتے ہیں کہ جنرل Flynn ایک اہم سوال کر رہے تھے اور خود ہی اس کا جواب دے رہے تھے۔ ان کے الفاظ ہیں:

اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیئے انٹیلی جنس کے وسائل کو کیسے استعمال کیا جائے؟ ظاہر ہے کہ اس بارے میں اس کے کچھ اپنے خیالات ہیں جن پر وہ سختی سے قائم ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ وزیر دفاع اور اس عمارت کے اندر سینیئر ملٹری افسران ان کا بہت احترام کرتے ہیں۔ میرے خیال میں وہ جس مسئلے پر کام کررہے ہیں، وہ افغانستان میں ہماری کامیابی کے لیئے انتہائی اہم ہے۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اپنے خیالات کو عوام تک پہنچانے سے، جنرل Flynn نہ صرف اپنے ماتحتوں کو، بلکہ زیر تربیت فوجیوں، ان کے ٹیچرز اور ماہرین اور تجزیہ کاروں کی وسیع تر کمیونٹی کو متاثر کر سکتے ہیں۔

Heritage Foundation کے James Phillips کہتے ہیں کہ یہ رپورٹ بہت بروقت اور صحیح ہے۔ ان کے الفاظ ہیں:

میرے خیال میں یہ تنقید بالکل جائز ہے۔ انٹیلی جنس جمع کرنے کے کام کی اصلاح اور معاملات کو درست کرنے کا کام بہت پہلے شروع ہو جانا چاہیئے تھا۔

ماہرین کہتے ہیں کہ بغاوت سے جنگ کے دوران لوگوں کی حفاظت کرنا اور ان کی حمایت حاصل کرنا، دشمن کے جنگجووں کو ہلاک کرنے سے زیادہ اہم ہے ۔James Phillips کہتے ہیں کہ اس قسم کی لڑائی میں فوجی کمانڈروں کے لیئے طاقت کے مقامی ڈھانچے اور تعلقات کو، اور علاقے کے کلچر اور معیشت کو سمجھنا ضروری ہے۔ ان کے الفاظ ہیں:

یہ مقامی حالات کو سمجھنے کے نئے طریقے معلوم کرنا ہے۔ ماضی میں ملٹری انٹیلی جنس کا بیشتر کام یہ تھا کہ دشمن کے یونٹوں کا محل وقوع معلوم کیا جائے۔ اب اس کا کام یہ بھی ہے کہ مقامی سویلین آبادی کے بارے میں، جسے دشمن کے ان یونٹوں سے خطرہ ہے، معلومات جمع کی جائیں۔

صدر اوباما نے کہا ہے کہ افغانستان میں ان کا اصل مقصد القاعدہ کے دہشت گردی کے نیٹ ورک، طالبان اور ان سے وابستہ گروپوں کو شکست دینا ہے۔ لیکن Brookings Institution کے Michael O'Hanlon کہتے ہیں کہ صدر کی نئی حکمت عملی میں اس طریقے کی اہمیت کوبھی تسلیم کیا گیا ہے جو جنرل Flynn اور جنرل McChrystal نے اپنائی ہے۔ اپنا مقصد حاصل کرنے کے لیئے ، آپ کو وسیع تر حکمت عملی اختیار کرنی ہوگی۔ آپ کو افغان حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا تا کہ وہ اپنے علاقے کی کنٹرول کرنے کی صلاحیت حاصل کرلے۔ اس کے لیے فوج اور پولیس میں بہتری لانی ہوگی اور پوری آبادی کو سمجھنا ہوگا۔

جنرل Flynn کے مقالے میں کہا گیا ہے ملٹری فورس کی طاقت کے پیچھے انٹیلی جنس کمیونٹی کا دماغ کام کرتا ہے۔ انٹیلی جنس کو افغانستان کے کونے کونے سے واشنگٹن میں طاقت کے مراکز تک، ٹھوس، وسیع البنیاد، اور مفید معلومات فراہم کرنے کا نظام قائم کرنا چاہیئے

XS
SM
MD
LG